کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 232
لیا جائے اور یہ دھیان رکھا جائے کہ اپنی بات واضح کرنے کے لیے ہمیں بائبل سے جتنی ضرورت ہو، اتنی ہی مدد لی جائے۔ بائبل کے حوالے سے بات کرتے وقت یہ احتیاط بھی ضروری ہے کہ کہیں لاشعوری طور پر اس کے متن کا مستند اور من جانب اللہ ہونا ثابت نہ ہوجائے۔ مختصر یہ کہ بائبل کا حوالہ صرف اس وقت ہی دیاجائے جہاں یہ کہنا ضروری ہو کہ ’’آپ کی بائبل بھی یہ کہتی ہے۔‘‘ ایسا نہ ہو اپنے حق میں بائبل سے دلیل لی جائے مگر اسلامی نقطۂ نظر کا ثبوت اس میں نہ پایا جائے۔ میں یہ کہنا چاہتاہوں کہ اسلام ایک مکمل دین ہے جس میں کسی اضافے یا ترمیم کی ضرورت نہیں ۔ یہ ہر لحاظ سے مکمل ہے جیسا کہ نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری خطبے میں قرآن حکیم کی اس آیت کا حوالہ دیا: ((الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا)) ’’آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمھارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کیا ہے۔‘‘ [1] سوال۔افریقہ کے لوگوں کو عیسائی بنانے کے لیے عیسائی مشنری (مبلغ) کیا طریقے استعمال کرتے ہیں ؟ جواب۔افریقہ میں عیسائی مشنریوں کو نوآبادیاتی عیسائی حکومتوں کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے جو اپنے سیاسی اور معاشی مقاصد کے لیے افریقہ کی آبادی کو عیسائی بنانا چاہتی ہیں ۔ اس طرح ان عیسائی مبلغین کو بہت سی مراعات اور سہولتیں میسر آجاتی ہیں ۔ وسیع وعریض وسائل کے علاوہ یہ عیسائی مشن مقامی آبادی پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے کئی اور طریقے بھی اپناتے ہیں ۔ ان لوگوں سے رابطے میں آسانی کے لیے وہ قبائلی زندگی اور زبانوں کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ انھوں نے بائبل کا مقامی زبانوں اور بولیوں میں ترجمہ کیا ہے۔ وہاں اپنے مشن کے مراکز میں ہر سطح کے تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں جہاں مقامی زبانوں کے علاوہ ثانوی زبان کے طور پر انگریزی، فرانسیسی یا اطالوی زبان کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ [1] ۔ المائدۃ : 3/5