کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 229
توحید پر ایمان سے اللہ واحد کی الوہیت اور حقیقت کے بارے میں میرے تمام شکوک وشبہات کا ازالہ ہوگیا۔ الحمدللہ اس حتمی صداقت کا ادراک مجھے حاصل ہوچکا ہے کہ اللہ کے سوا معبودِ حقیقی کوئی نہیں ، وہ خالق ہے، مخلوق سے محبت کرتا ہے اور تمام جہانوں کا مالک ہے، اس کا کوئی شریکِ کار نہیں ہے۔ سوال۔ لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کا بہترین طریقہ کونسا ہے؟ جواب۔انسان کو اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کے لیے مناسب رہنمائی سے محروم نہیں رکھا گیا، لہٰذا اسلام ایک مکمل اور جامع ضابطہ ٔحیات ہے جو تمام انسانی مساعی کا احاطہ کرتا ہے۔ لوگوں کو دعوت اسلام دینے کے حوالے سے قرآنِ کریم کی درج ذیل آیت ہماری رہنمائی کرتی ہے: ((ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ)) ’’(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !) لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کی مدد سے اللہ کی طرف بلائیے اور ان کے ساتھ بہترین طریقے سے گفتگو کیجیے۔ بے شک تمھارا اللہ اپنی راہ سے بہکنے والوں کو اور ہدایت یافتہ لوگوں کو بخوبی جانتا ہے۔‘‘[1] انسان ایک پیچیدہ وجود ہے جسے نہ صرف بہت سی صلاحیتیں عطا کی گئی ہیں بلکہ نہایت لطیف جذبات واحساسات سے بھی نوازا گیا ہے جن کی بدولت اسے تہذیب اور شائستگی حاصل ہوئی۔ ابو الاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :’’ لوگوں کواسلام کی دعوت دیتے ہوئے انسان کو دو باتیں ذہن میں رکھنی چاہییں : اول حکمت اور دوم اچھی نصیحت۔‘‘ حکمت سے ان کی مراد ان تعصبات کو سمجھنا ہے جو اسلام کے خلاف غیر مسلموں میں پائے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کی ذہنی استعداد اور حالات کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ مختصر یہ کہ دعوت کا دارومدار ان لوگوں کو سمجھنے پر ہے جنھیں ہم دعوت دینا چاہتے ہیں ۔ ان کے تمدن، نظریات، مسائل، توقعات اور خواہشات کو [1] ۔ النحل 125:16