کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 228
دیاجاتا ہے۔ وہی ہر طاقت اور خوبی کا سرچشمہ ہے۔ ہماری ترقی کا انحصار اس کی مرضی پر چلنے میں ہے۔ یہی اس کی عبادت ہے جس کا اسے کو ئی فائدہ نہیں مگر ہمیں فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ آ خر میں ، میں نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ پیش کرتا ہوں جس میں آپ نے فرمایا: ’’انسان کو اللہ نے عقل سے بہتر کوئی اور نعمت نہیں دی۔‘‘ [1] ذیل میں جناب محمد امین سی کیو کے ایک انٹرویو سے اُن سوالات کے جوابات ملاحظہ کیجیے جو ان کے سامنے اٹھائے گئے: سوال۔ قبول اسلام سے پہلے اور بعد کے احساسات بیان فرمائیے؟ جواب۔تعمیل ارشاد سے قبل میں یہ بیان کرنا چاہوں گا کہ ایک پکا پروٹسٹنٹ عیسائی ہونے کے باعث میں مسلسل مطالعے اور تحقیق سے حق کی تلاش میں لگا رہا۔ جوں جوں میری تحقیق آگے بڑھی، مجھے اپنے عقیدے میں ایسی ایسی خامیاں نظر آنے لگیں کہ میں نے ’’جیہووا (اللہ) کے گواہ‘‘ (Jehovah's Witnesses) [2] نامی فرقے کا مذہب اختیار کرلیا، تاہم ابھی کچھ ایسے تضادات باقی تھے جو عیسائیت کو غلط ثابت کرتے تھے۔ عیسائیت کے نظریات کے واجب العمل ہونے میں بھی بہت تنگ نظری اور کوتاہ بینی تھی، لہٰذا ان کی درستی مشکوک تھی۔ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ اور انسان کے درمیان واسطہ نہیں مان سکتا تھا کیونکہ واسطہ کی ضرورت اللہ تعالیٰ کے اوصاف کی تردید کرتی ہے جبکہ وہ قادر مطلق اور علیم ہے ۔ اس طرح رفتہ رفتہ میرا عیسائیت پر ایمان ختم ہونے لگا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ تمام مسائل حل ہوگئے جو میرے لیے پریشانی کا سبب تھے۔ [1] ۔ مصنف کو سہو ہوا ہے کیونکہ یہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں بلکہ مطرف بن شخیر کے قول کا مفہوم ہے۔ اس کی تفصیل دیباچے میں گزرچکی ہے، نیز عقل کے متعلق تمام احادیث ضعیف یا موضوع ہیں جس کی بحث پیچھے گزر چکی ہے۔ (عبدالرحمن) [2] ۔ اس عیسائی فرقے کے ارکان آنے والے عہدِ ہزار سالہ اور خدا کی مذہبی حکومت پر ایمان رکھتے ہیں ۔ اس دور میں ان کے عقیدے کے مطابق شیطان قید ہوگا اور حق کی حکومت ہوگی۔