کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 202
[ لَا اِلٰـہَ اِلَّااللّٰهَ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ] دستخط (جان فشر) (John Fisher) مغربی شعور کے لیے اسلام کی سب سے دلکش خوبی اس کی سادگی ہے۔ اگرچہ ایک دو اور مذاہب میں بھی بہت آسانی ہے مگر وہ نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین جیسی قوّتِ حیات اور روحانی و اخلاقی رفعت سے خالی ہیں ۔ اسلام کی معقول سادگی میں جذباتی لوگوں اور نمائشی مذہبی سرگرمیوں کے گرویدہ لوگوں کے لیے کوئی کشش نہیں پائی جاتی۔ ایسے لوگوں کو اپنی پسند کا میدانِ عمل بعض فرقوں میں دستیاب ہے جہاں آنکھوں کو بھڑکیلے رنگوں کی چکا چوند ، کانوں کو سریلی کلاسیکی موسیقی اور دلوں کو پھولوں سے لدی قربان گاہیں اور جذباتی ڈرامے کیف و سُرور سے مسحور کرتے ہیں ۔( یہ سب کچھ عیسائیت کے کیتھولک فرقے میں اور کسی حد تک ہندو مت میں ہوتا ہے۔) ایسی نمائشی سرگرمیاں عقلِ سلیم کو کبھی بھی متاثر نہیں کر سکتیں ۔ علاوہ ازیں بعض مذہبی فرقوں میں تو عام آدمی کو مذہبی معاملات میں عقل کے استعمال کی اجازت ہی نہیں ہوتی بلکہ ذہن کو ایک ایسی زمین سمجھا جاتا ہے جس میں پادری یا پیشوا جو چاہے کاشت کر دے۔ کتنا تضاد ہے ان مذاہب کی تنگ نظری اور پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس فرمان میں کہ ’’علم حاصل کرو خواہ تمھیں چین جانا پڑے‘‘[1] رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم یقینا جانتے تھے کہ انسان کے ذہن پر پابندیاں عائد کرنا کس حد تک ناروا ہے۔ اسلام کی رواداری بھی انسان کو لازماً متاثر کرتی ہے۔ ہمیں عیسیٰ علیہ السلام اور رُوئے زمین پر آنے والے دوسرے تمام انبیاء علیہم السلام کا احترام کرنا سکھایا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل عیسائیوں کے لیے ایک مثال ہے جو آپس میں دُشنام طرازی کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی ہمیں ( مسلمانوں کو) بھی نشانہ بناتے رہتے ہیں ۔ عیسائیت کی تنگ نظری اور عدم رواداری ہی نے مجھے اسلام کی طرف متوجہ کیا۔ بچپن میں ، میں نے عیسائیوں کے ایک مذہبی اجتماع میں جب اُن مقررین کی [1] ۔ یہ حدیث نہیں بلکہ مقولہ ہے۔