کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 193
((مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا)) ’’محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) تم میں سے کسی مرد کے والد نہیں مگر وہ اﷲ کے رسول اور آخری نبی ہیں اور اﷲ ہر بات سے باخبرہے۔‘‘ [1] غلام احمد کو نبی ثابت کرنے کے جنون میں احمدیہ مشن کے لوگ حیرت انگیز اور شرمناک انداز میں قرآن حکیم کی بعض آیات کے مفہوم کو بھی توڑ مروڑ کراپنے مطلب کے مطابق پیش کرتے ہیں ۔ اس قسم کی توڑ پھوڑ کی ایک مثال اُن کا قرآن حکیم کی اس آیت کا ترجمہ ہے، وہ کہتے ہیں : ((وَمَنْ يُطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُولَ)) ’’اور جو کوئی اﷲ اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم مانے۔‘‘ [2] وہ قرآن کے الفاظ (وَالرَّسُوْلَ) کا ترجمہ ’’اور اُس کے اِ س رسول‘‘ کا کرتے ہیں ، حالانکہ اس کا اصل مفہوم ہر لحاظ سے ’’اور اُ س کے رسول‘‘بنتا ہے، اس کا مفہوم کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ احمدیوں کا ترجمہ قرآنِ حکیم کے متن سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ وہ یہاں لفظِ (ھٰذَا) ’’اس‘‘ کا اضافہ کرتے ہیں ، حالانکہ متن میں لفظ (ھٰذا) موجود نہیں ۔ احمدی مشن کی اس معنوی تحریف پر عقلی اعتبار سے غور کیا جائے تو یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ وہ قرآن حکیم کے متن میں لفظ(ھٰذا) کا اضافہ کر کے اپنا مطلب نکالنا چاہتے ہیں جوکہ اسلامی نقطۂ نظر سے ایک سنگین جرم ہے۔ اگر احمدیہ مشن کا قرآن مجید کا ترجمہ صرف انگریزی ہی میں شائع ہو تو اس میں بہت سی باتیں قرآن کریم کے اصل عربی متن سے مختلف ہوں گی۔ کیا اب وقت نہیں آگیا کہ نائیجیریا اور افریقہ کے مسلمان جو احمدیہ مشن کا ساتھ دے رہے ہیں اگر وہ اسلام سے (واقعی) مخلص ہیں تو اپنی اس رفاقت پرغور کریں کیونکہ احمدیوں کا اسلام وہ اسلام نہیں جو نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں لے کر آئے۔ احمدیہ مشن نے اس آیت کے پہلے حصہ میں تحریف کر کے اسے اپنے مقصد کےمطابق بنا لیا۔ پوری آیت کا ترجمہ یوں ہے: [1] ۔ الأحزاب : 40/33 [2] ۔ النساء : 69/4