کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 188
اعلان کرنا ہے کہ میرے علم کے مطابق احمدیت اسلام نہیں ہے۔یہ بات کہنا اس لیے ضروری ہے کہ نائیجیریا میں احمدیت کے ایک پیرو کار کومیں نے بار بار یہ کہتے سنا کہ ’’میرے (ڈاکٹر اسماعیل کے) احمدی ہونے کی وجہ سے انھوں نے احمدیت قبول کی تھی۔‘‘لہٰذا جب مجھے احمدیت کی حقیقت معلوم ہو گئی تو یہ بات میرے لیے ایک بھاری ذمہ داری بن گئی اور میری یہ تحریر اسی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کی ایک کوشش ہے۔ تمام تعریفیں اﷲ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ہدایت سے نوازا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ((ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ)) ’’(اے نبی!) انسانوں کو دانائی (وحی و الہام ربانی جوقرآن و حدیث کی صورت میں ہے) اور خوش گفتاری سے دین کی دعوت دیجیے اور اُن سے اچھے طریقے سے بحث کیجیے۔ بیشک آپ کا رب سب سے زیادہ جانتا ہے کہ کون گمراہ اور کون ہدایت یافتہ ہے۔‘‘ [1] اس تحریر سے میرا مقصد احمدیت کے بارے میں حقیقت حال سے واقفیت کے خواہاں حضرات کو صحیح صورتِ حال سے آگاہ کرنا ہے کہ ممکن ہے اﷲ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے حق بات سمجھنے کی توفیق عطا کردے اور انھیں سیدھا راستہ دکھا دے۔ایسے لوگوں کے لیے میری یہ دعا ہے کہ اللہ اُنھیں سمجھ عطا کرنے اور سیدھا راستہ دکھانے کے بعد غلط راستہ ترک کرنے کی بھی ہمت عطا کردے تاکہ وہ گمراہی کے راستے پر مزید آگے نہ جا سکیں ۔ارشاد الٰہی ہے: ((وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَا ۚ إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ)) [1] ۔ النحل : 125/16