کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 183
گی۔‘‘[1] [2] [پروفیسر ہارون مصطفیٰ لیون] (Prof. Haroun Mustapha Leon) میں کیوں مسلمان ہوا؟ یہ بیان لکھتے ہوئے میرا یہ ہر گز ارادہ نہیں کہ مذاہب کے تقابل پر کوئی لمبی چوڑی بحث پیش کروں اور نہ میرا مقصد اسلام کا تنقیدی جائزہ لینا ہے۔ اس کے بجائے میں اپنے قبولِ اسلام کے بارے میں ایک جامع وضاحتی بیان دینا چاہتا ہوں ۔ میری ابتدائی تربیت عیسائی عقیدے کے مطابق ہوئی مگر اس تربیت کی وجہ بدقسمتی سے میری عیسائی گھرانے میں پیدائش تھی کیونکہ بچوں کی تعلیم و تربیت عام طور پر والدین کے مذہب کے مطابق ہی ہوتی ہے اور بعد میں ہم اس مذہب کو ہی حقیقی دین سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں ۔ تاہم عجیب بات یہ ہے کہ ہم اور تو ہر چیز کو خوب چھان پھٹک کر دیکھنے کے بعد ہی قبول کرتے ہیں مگر مذہب اور بالخصوص عیسائیت کے نام لیوا اسے آنکھیں بند کرکے قبول کر لیتے ہیں ۔ مسیحی بائبل جو عیسائیت کی نصابی کتاب ہے، اسے میں نے کئی بار پڑھا ہے۔ میرے خیال میں شاید ہی کوئی ایسا آدمی ہو جو اس میں مذکور ہولناک خون ریزی، تباہی ، حرام کاری، زنا بالجبر اور فحاشی سے لبریز واقعات پڑھ کر کانپ نہ اُ ٹھتا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ بائبل پڑھ کر انسان عیسائیوں کے ’’خدا ‘‘ کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ تقریباً ہر عیسائی گھرانے میں بائبل موجود ہے مگر اسے عموماًسامانِ آرائش کے طور پر گھر میں رکھا جاتا ہے۔ اگر بائبل کا کوئی ناشر کتاب کے اوراق کی کٹائی کیے بغیر یہ کتاب تقسیم کر دے تو [1] ۔ مجھے یہ حدیث نہیں مل سکی لیکن اس کے متعلق اجمالی بحث چند صفحات قبل گزر چکی ہے کہ عقل کے متعلق تمام احادیث و آثار ضعیف یا موضوع ہیں ۔ (عبدالرحمن)] [2] ۔ اسلام دی فرسٹ اینڈ فائنل ریلیجن، ص: 121-119۔