کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 179
ایک اور موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] [1] مِنَ الْعَقْلِ) ’’اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز پیدا نہیں کی جو عقل سے بڑھ کر اللہ کو محبوب ہو۔‘‘ (تاریخ ابن عساکر:454/11)عقل کے متعلق یہ حدیث اور دیگر تمام احادیث ضعیف یا موضوع ہیں ۔ دراصل اہل فلسفہ ،اہل منطق اور عقل پرست لوگوں نے قرآن پاک اور احادیث نبویہ سے اپنی خواہشات کے مطابق مفہوم نکالنے اور یہ ثابت کرنے کے لیے کہ دین و شریعت میں عقل کا استعمال مستحسن ہے، مختلف قسم کی احادیث و ضع کیں اور ایسی موضوع اور باطل احادیث پر مشتمل کتب تصنیف کیں ۔ امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’کتاب العقل‘‘ کے نام سے چار آدمیوں نے کتابیں گھڑی ہیں ۔سب سے پہلے میسرہ بن عبدربہ نے عقل کے متعلق احادیث پرمشتمل ایک کتاب وضع کی، پھر اس سے داود بن محبر نے چوری کی اوران احادیث کو میسرہ کی سندوں کے علاوہ دیگر اسناد سے ملادیا، پھر انھیں عبدالعزیز بن ابو رجاء نے چوری کیا اوران میں مزید سندیں ملادیں ، پھر سلیمان بن عیسیٰ سجزی نے انھیں چوری کیا اوران میں اپنی سندیں بیان کیں ۔‘‘ نیز ایک جگہ فرماتے ہیں : [قدرویت فی العقل أحادیث کثیرۃ لیس فیھا شییٔ یثبت] ’’عقل کے متعلق بہت زیادہ احادیث روایت کی گئی ہیں لیکن ان میں سے ایک بھی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔‘‘ امام ابن حبان پراگرچہ یہ الزام ہے کہ وہ اہل فلسفہ میں سے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ فرماتے ہیں : لست أحفظ عن رسول اللّٰہe خبرا صحیحاً في العقل]’’مجھے عقل کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بھی صحیح حدیث یاد نہیں پڑتی۔‘‘ پھر اس کا سبب بیان کرتے ہوئے تقریباً 10ایسے راویوں کا ذکر کرتے ہیں جو عقل کے متعلق احادیث بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں : ’’یہ تمام راوی اور دیگر راوی جواس قسم کی روایات بیان کرتے ہیں سب ضعیف ہیں ۔‘‘ امام عقیلی فرماتے ہیں : ’’عقل کے معاملے میں کوئی بھی چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔‘‘ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’جس شخص نے بھی عقل کے متعلق وارد شدہ احادیث و آثار میں غور وفکر کیا ہے اس کے لیے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ان احادیث و آثار کی بنیاد کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں تحریف بھی کی گئی ہے۔‘‘ مندرجہ بالا تمام اقوال امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ ہی کے بیان کردہ ہیں ۔ ان اقوال کو بیان کرنے کے بعد فرماتے