کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 173
ہوں جس کا نام "The Talking Picture News" ہے۔جون1934 ء میں مجھے سینٹ جیمز پیلس (St. James's Palace) میں شاہ جارج پنجم کی خدمت میں پیش ہونے کا موقع ملا۔ اس سال میرے علم میں یہ بات آئی کہ ووکنگ (Woking) کی مسجد کے امام صاحب ساؤتھ پورٹ ریلیجئس کانفرنس (Southport Religious Conference) سے خطاب کریں گے۔ پس میں اُن کا خطاب سننے چلا گیا۔ بعد میں اُن سے مل کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ ہم نے وہاں نہایت دلچسپ گفتگو کی۔ مجھے امید ہے ہمارا آپس میں رابطہ رہے گا۔ میں لیور پول میں پیدا ہوا اور میرا خاندان مذہباً پروٹسٹنٹ تھا، تاہم میں نے ہمیشہ اپنی فکر کو آزاد رکھا اور اللہ عزوجل کے بارے میں مسلمانوں کا عقیدہ مجھے ہمیشہ اچھا لگا۔[1] [فریڈرک حمید اللہ بومین- لیورپول، برطانیہ] (Frederick Hameedullah Bowman-Liverpool, U.K) ایک ذی شعور انسان کا پسندیدہ دین کئی سال سے عیسائی دنیا کے مذہبی جرائد میں مختلف فرقوں کی جانب سے یہ واویلا کیا جا رہا ہے کہ مذہبی حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔اور واقعی صورت حال ایسی ہے کہ عیسائی طبقۂ علماء کی سر گرمیوں اور سرتوڑ کوششوں کے باوجود لوگوں کی عیسائیت میں دلچسپی ہر سال کم ہوتی جا رہی ہے۔لوگوں کی اس بے اعتنائی کی کئی وجوہات بتائی جاتی ہیں مگر اصل وجہ بتانے سے عموماً گریز ہی کیا جاتا ہے۔ خالق نے انسان کو ذہن استعمال کے لیے دیا ہے اور انسان اسے جتنا زیادہ استعمال کرے اتنا ہی اُس کا اعتماد اپنے ضعیف الاعتقاد اور غیر مہذب آباؤ اجداد کے نظریات سے اُٹھتا چلاجاتا ہے۔ قرونِ وسطیٰ میں ذہن سے کام لینے والے لوگ صرف پادری ہوا کرتے تھے۔سب سے طاقتور ہتھیار ’’علم‘‘ صرف انھی کے ہاتھوں میں ہوتا تھا، یہاں تک کہ جو آدمی بھی لکھنا پڑھنا سیکھ [1] ۔ اسلامک ریویو، مارچ1940ء ج:28،ش:3،ص:83-81