کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 161
مبہوت ہونے کے بجائے اُن قیمتی خزانوں کو لوٹ لیا مگر اللہ کے فضل و کرم سے محل صحیح سالم رہ گیا اور اب ہم اس میں داخل ہو کر علم اور تخیّل کی مدد سے یہ دیکھ سکتے ہیں کہ تمھارے دربار کے زمانۂ عروج میں اس کی اور تمھاری کیا شان رہی ہو گی۔ تم نے حُسن سے محبت کی خاطر اُس شہرت کو قربان کر دیا جو تمھیں دشمن کا مقابلہ کر کے حاصل ہو سکتی تھی اور اب اس قربانی سے ہر شخص مستفید ہو رہا ہے۔ ہاں سلطان بو عبدل ! تم ایک ہیرو ہی تھے۔ تمھاری بلند پایہ روح اتنابڑا جرم گوارا نہ کر سکی۔[1] اُن عجیب و غریب عربی طرز کے ظروف ، دھاتوں سے مرصّع آرائشی سامان، شیشے کی آرائشی اشیاء، جھالروں ، پردوں اور قالینوں اور جلد سازی کے شاہکاروں کے متعلق میں کیا بتاؤں کہ وہ کتنی حسین چیزیں تھیں ۔ لندن کے ساؤتھ کنسنگٹن (South Kensington) میوزیم میں جا کر یہ اندازہ ہو سکتا ہے کہ ایک امیر عرب گھرانے میں آرائش کے لیے کیا کچھ سامان ہو تا تھا۔ نہ صرف امیر بلکہ متوسط اور غریب گھروں میں بھی بہت کچھ ہوتا تھا۔ ہر چیز فن کا اتنا عمدہ نمونہ تھی کہ ان میں سے جو چیزیں بچ گئیں ، آج اسلامی آرٹ کے عجائب گھروں میں شیشے کے صندوقچوں میں سجا کر رکھی جاتی ہیں ۔ فن کے ان نمونوں نے تحریک احیائے علوم کے دور میں یورپ کو ایک نئی روشنی دی۔ اس فن کی مصنوعات دنیا میں بے مثال ہیں اور باریک نقّاشی اور مسودات کی تو شان ہی نرالی ہے۔ قرآن کریم کے کئی پرانے قلمی نسخے دیکھ کر میں بہت محظوظ ہوا۔فن خطاطی اور آرائش کے یہ نمونے واقعی شاہکار ہیں ۔ اس فن میں اطالوی اور دنیا کی کوئی اور قوم بھی ان کی گرد کونہ پہنچ سکی۔ اور پھر کتنے زبردست تخلیق کار تھے وہ اہلِ قلم جنھوں نے شہر زاد کی کہانیاں لکھیں ۔ اُن لوگوں کو تو [1] ۔ یہ الحمرا کے حُسن سے مسحور کاؤنٹ جیوجا کے ذاتی خیالات ہیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ بزدل ابوعبداللہ اور اس کے پیشرو سلاطین نے اگر جہاد سے منہ نہ موڑا ہوتا اور شان و شکوہ کی حامل یادگاریں بنانے کے بجائے ناقابلِ تسخیر قلعے تعمیر کیے ہوتے اور مسلمانانِ اندلس کو سیسہ پلائی دیوار بنایا ہوتا تو اندلس (سپین) سے اہلِ اسلام کو حرفِ غلط کی طرح نہ مٹا دیا جاتا۔ (م ف)