کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 156
گیا ہے نہ الوہیّت کو تثلیث میں تقسیم کرنے اور ایک نجات دہندہ کا عقیدہ گھڑ کر اسے الٰہ کا درجہ دینے کی جسارت کی گئی ہے، جیسا کہ عیسائیت کا عقیدہ ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو اس لیے واجب الاحترام ہیں کہ ان پر آسمانی وحی کا نزول ہوا، انھیں ان کے پرجوش پیروکاروں نے الٰہ کا درجہ دیا ہے نہ ان سے اس طرح کی الوہی شان منسوب کی گئی ہے جو کہ عیسائیت کے ’’شہیدوں ‘‘ کا خاصہ بتائی جاتی ہے۔ مزید برآں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل تعلیمات خودسر شارحین اور فقیہوں کے ہاتھوں بھی تبدیل نہ ہو سکیں ۔ قرآن کریم بھی بعینہ اسی حالت میں محفوظ ہے جس حالت میں یہ مشرکینِ مکہ کی اصلاح کے لیے بھیجا گیا تھا۔ یہ اسلام کی مقدس روح کی طرح غیر مبدّل ہے۔ اسلام کی امتیازی تعلیمات، اعتدال اور رواداری نے میرا دل جیت لیا۔ پیغمبر اسلام نے اپنے پیروکاروں کے نہ صرف عقائد کی اصلاح کی اور ان کی روح کو پاک کیا بلکہ ان کی جسمانی صحت کے لیے طہارت وصفائی اختیار کرنے کا حکم بھی دیا۔ اور روزے رکھ کر شہوت پر قابو پانے کی ترغیب دی۔ اس سال گرمیوں میں ، میں نے پورے سپین کے بڑے بڑے گرجا گھروں کا دورہ کیا جن میں سے کئی ابتدا میں مسجد کے طور پر تعمیر کیے گئے تھے اور اس دورے کے فوراً بعد میں نے فاس(Fez)، مراکش شہر، رباط، مکناس(Meknes) تطوان (Tetuan) اور مراکش کے دوسرے شہروں کی کئی مساجد میں ہزاروں مور نسل[1] کے مسلمانوں کے ساتھ نمازیں ادا کیں ۔دھندلی روشنی والے گرجا گھروں کی محرابوں میں جب باجوں کے سُر اور عیسائیت کے مذہبی [1] ۔ ان دنوں مراکش کے جنوب میں موریتانیہ واقع ہے لیکن رومی دور میں مراکش اور الجزائر تک کے علاقے موریتانیہ کہلاتے تھے۔ 711ء میں طارق بن زیاد کی قیادت میں جس اسلامی لشکر نے سپین (اندلس) فتح کیا تھا اس میں زیادہ تر مراکش، الجزائر اور موریتانیہ کے بربر مسلمان تھے۔ موریتانیہ کی نسبت سے ہسپانوی عیسائی، اندلسی مسلمانوں کو ’’مُور‘‘ کہتے تھے۔ سقوط غرناطہ (1492ء) کے بعد بے شمار مور مسلمان شمالی افریقہ چلے آئے تھے۔ (م ف )