کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 148
واحد دین ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ میرے اسلام قبول کرنے میں بنیادی اور حتمی عنصر میر ا مطالعۂ قرآن تھا جو میں نے قبول اسلام سے پہلے ہی شروع کر دیا تھا۔ یہ مطالعہ میں نے مغربی دانشور کے طور پر تنقیدی نظر سے کیا تھا اور میں جناب مالک بنابی (Mr.Malek Bennabi) کا بے حد ممنون ہوں جن کی شاندار کتاب ’’Le Phenomene Coranique‘‘ (حیرت انگیز قرآنی مظاہر) نے مجھے قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا یقین دلایا۔ قرآن حکیم کی کچھ آیات ایسی ہیں کہ اگرچہ وہ 13صدیوں سے بھی زیادہ عرصہ قبل نازل ہوئیں ، مگر وہ انھی نظریات کی تعلیم دیتی ہیں جو آج کی جدید ترین سائنسی تحقیق سکھا رہی ہے۔ اس بات نے مجھے مکمل طور پر تبدیل کردیا اورمجھے کلمہ طیّبہ کے دوسرے جز ’’مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ ‘‘ کی طرف متوجہ کیا۔ اسی وجہ سے میں نے 20 فروری 1953ء کو پیرس کی مسجد میں جا کر اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا اور مسجد کے مسلمان مفتی نے میرا نام بطور مسلمان کے درج کرلیا۔ میرا اسلامی نام علی سلمان رکھا گیا۔ میں اپنے دین پر بہت خوش ہوں اور یہ اعلان کرتا ہوں : ’’اَ شْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّااللّٰهُ وَ اَ شْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُ ہٗ وَرَسُولُہ‘‘[1] [ڈاکٹر علی سلمان بینوئیسٹ- فرانس] (Dr.Ali Selman Benoist-France) پروفیسر آرتھر ایلیسن کو کس بات نے قبول اسلام پر آمادہ کیا؟ پروفیسر آرتھر ایلیسن (Arthur Alison)لندن یونیورسٹی میں الیکٹریکل اور الیکٹرانک انجینئرنگ کے شعبے کے سربراہ ہیں ۔ آپ کئی سال تک برطانیہ کی سوسائٹی برائے نفسیاتی و روحانی مطالعہ کے صدر رہے۔ مذہب کے مطالعہ کے دوران میں آپ کو اسلام سے واقفیت [1] ۔اسلام دی فرسٹ اینڈ فائنل ریلیجن ،ص:121۔123۔