کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 136
دیکھا کہ اگرچہ ہمیں بعض صلاحیتیں تو عطا ہوئی ہیں مگر ہمیں جو کچھ بھی ملتا ہے اپنی محنت یا قابلیت سے نہیں بلکہ سب کچھ اﷲ ہی کی طرف سے عطا ہوتا ہے۔ہمیں یہ صلاحیتیں اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے میں استعمال کرنی چاہییں ، پھر ہو سکتا ہے کہ ہمیں سچی خوشی نصیب ہو جائے۔ اس لمحے کے بعد میں ہمیشہ خوش ہی رہا ہوں اگرچہ زندگی میں اتنی مشکلات بہت کم لوگوں نے دیکھی ہوں گی جتنی میں نے دیکھی ہیں ۔ پہاڑی علاقے میں سنّوسی[1] (Senoussis) گروہ نے مجھے قید کر دیا۔ میں نے انھیں حقیقت بتائی کہ میں الحمدللہ مسلمان ہوں ۔ پہلے تو انھوں نے مجھ پر شک کیا۔ یہ فطری بات تھی، مگر بالآخر اُنھوں نے میری بات مان لی اور پھر پہاڑوں میں رہنے والے وہ ’’باغی لوگ‘‘جو غالباًمیری زندگی میں آنے والے بہترین انسان تھے، مجھے اپنی کہانی سنانے لگے جسے سُن کر میں اتنا متاثر ہوا کہ مجھے اپنے یورپی ہونے پر شرم محسوس ہونے لگی۔یقین کیجیے کہ اگرچہ وہ لوگ پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس تھے، غریب اور فاقہ زدہ تھے، پھر بھی انھوں نے مجھے ہر چیز میں حصہ دار بنا لیا۔اِن ہمدردوں اور اُن عمدہ لباس میں ملبوس درندہ صفت عیسائی افسروں میں کتنا فرق تھا جن سے مجھے بعد میں واسطہ پڑا۔ان سنّوسیوں سے رخصت ہو کر میں اٹلی والوں سے ملا۔ اُنھوں نے مجھ سے ان عربوں کے بارے میں پوچھا مگر میں نے بتانے سے صاف انکار کر دیا تو اُنھوں نے مجھے قید کر دیا۔ میں اس قید پر بھی اﷲ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اگر مجھے اس طرح قید نہ کیا جاتا تو آج میں اہلِ یورپ کو شمالی افریقہ کے مسلمانوں کے مصائب و آلام کے بارے میں نہ بتا سکتا۔ اس قید سے رہائی کے بعد میں مصر گیا اور اپنے مشاہدات اخباروں میں بیان کرنے لگا۔ اٹلی کی حکومت مجھے اس کام سے روکنا چاہتی تھی اور جب میں اٹلی کے متوقع حملے کے خلاف نخلستان کفرا (Cafra) کے لوگوں کی مدد کرنے جا رہا تھا تو مصر کی حکومت نے مجھے گرفتار کر لیا کیونکہ قاہرہ میں اٹلی کے سفیر نے میرے بارے میں [1] ۔1911ء میں اٹلی نے لیبیا پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس استعماری قبضے کے خلاف سیّد علی سنّوسی اور ان کے سپہ سالار عمر المختار نے برسوں جہاد کیا۔ آخر کار اطالویوں نے عمر المختار کو گرفتار کرکے پھانسی دے کر شہید کردیا۔ (م ف)