کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 131
ہم درس نے میرے خیالات کو سوشلسٹ رُخ دیا اور کچھ عرصہ بعد مجھے دہریت کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی، مگر مجھے اس وقت بھی یہ احساس ہوتا تھا اور اب بھی ہے کہ اسلام اپنے پیروکاروں کو اُن مسائل سے دو چار نہیں کرتا جو آج کل یورپ میں لادینیت کا باعث بن رہے ہیں جبکہ دوسری طرف اسلام میں کئی باتیں اس دین کو سچا تسلیم کرنے کے بعد ہی سمجھی اور سمجھائی جاسکتی ہیں ۔[1] [عبدالقادر پکارڈ] (Abdul Qadir Pickard) امریکہ میں اسلام ابھی چند روز قبل میں نے تقریباً چودہ افراد پر مشتمل ’’Toastmasters Club (دعوتِ عشائیہ کے صدور کاکلب) کے ایک گروپ سے خطاب کیا جن میں سے بیشتر افراد اسلام سے بالکل نا آشنا تھے۔اس طرح مجھے اپنے تصوّر اسلام اور امریکہ میں اسلام کے مستقبل پر روشنی ڈالنے کا موقع نصیب ہوا۔ میرے خطاب کے اس خلاصے سے ان شاء اﷲ آپ کو کارآمد اور فکر انگیز نکات حاصل ہوں گے۔ خلاصہ درج ذیل ہے: اسلام کے معنی ہیں ’’ اﷲ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا‘‘ اور مسلمان وہ لوگ ہیں جو اﷲ کی اطاعت کرنے کا اقرار کرتے ہیں لیکن اسلام محض ایک تصورہے نہ محض ایک مذہب کا نام ہے بلکہ یہ ایک مکمل طرزِ حیات ہے۔ میں نے سنا ہے کہ اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے۔ ایک امریکی ہونے کی حیثیت سے مجھے یہ بات حیرت انگیز لگتی ہے۔ حال ہی میں مسلمانوں نے اس ملک میں ایک نمایاں سماجی حیثیت حاصل کی ہے۔ آخر کیوں ؟ اس سوال کا جواب ہمیں تاریخ سے مل سکتا ہے۔ اسلام میں جو اہم واقعات رونما ہوئے ہیں اُن سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام کو حال ہی میں امریکہ میں فروغ کیوں کر حاصل ہوا؟ [1] ۔ اسلامک ریویو، اگست 1940ء ج:28،ش:8،ص:285-283