کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 129
آغوش میں لانے میں کامیاب ہوگئے۔ (الحمدللہ) 30ذوالقعدہ 1401ہجری (ستمبر 1981ء)کو میری بیٹی خدیجہ پیدا ہوئی او راس طرح میرے خاندان میں اب پانچ افراد ہیں جن کے لیے مجھے تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔ اسلام قبول کرنے پر بہت مصائب کا سامنا کرنا پڑا مگر ہم ثابت قدم رہے اور ان شاء اللہ جب تک جسم میں جان ہے ہم کلمہ ’’لا الٰہ الا للّٰه محمد رسول للّٰه ‘‘ پڑھتے رہیں گے۔ اے اللہ! حالات کے ناقابلِ برداشت مسائل میں ہمیں اسلام کے سچے قوانین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین[1] [عبداللہ کولو بانگ مینگوانگ سابق ایڈون سی مینگوانگ] (Abdullah Colobong Mangaoang' Formerly Edwin C.Mangaoang) میں مسلمان کیوں ہوا؟ میں ہمیشہ سے مسلمان رہا ہوں ۔ یہ کہنے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ میں قرآنِ حکیم میں مذکور مفہوم کے مطابق دین فطرت کا پیرو کار تھا، بلکہ زندگی کے ابتدائی دور ہی میں مجھے یہ احساس ہو گیا تھا کہ اسلام اپنی موجودہ عملی شکل میں دوسرے قابلِ ذکر مذاہب کی نسبت فطرت کے زیادہ قریب ہے۔میرے خیال میں مجھے جس چیز نے مشرقی تہذیب کی طرف متوجہ کیا وہ عیسائیت کے نظریۂ اخوت اور سامراجی نظریات سے پیدا ہونے والے رویّے کے درمیان تفاوت تھا جس کی بنا پر سلطنت برطانیہ میں ایک طرف انگریزی اداروں کی عظمت کے گیت گائے جاتے تھے اور دوسری طرف رنگ و نسل کا تعصب اور دو الگ الگ ضابطۂ اخلاق رائج تھے۔ ایک یورپی لوگوں کے لیے اور دوسرا اُن غیر یورپی لوگوں کے لیے جنھیں ’’کم تر نسل کے بے قانون لوگ‘‘ سمجھا جاتا تھا۔ اس پس منظر میں ، میں نے غیر یورپی معاشروں کا مطالعہ مذہبی نقطۂ نظر سے نہیں بلکہ [1] ۔ مینارٹ (Minaret) ستمبر1984ء ص:24-19