کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 119
سر عبداللہ نے 20 ستمبر 1923ء کو اسلام قبول کیا اور ہمیشہ دین اسلام کے پرجوش مبلغ رہے۔ 17مارچ 1939ء کو جمعہ کی رات حرکت قلب بند ہونے سے جاں بحق ہوئے۔ اس وقت آپ کی عمر 62 برس تھی۔ آپ کو بروک وُڈ (Brookwood) کے مسلم قبرستان میں دفن کیا گیا۔ آپ کی قبر اسلام کے ایک اور بزرگ اور توانا مبلغ (بعد میں الحاج) لارڈ ہیڈلے الفاروق (Lord Headley Al-Farooq) کے ساتھ ہے۔ زندگی میں یہ دونوں بزرگ آپس میں گہرے دوست تھے۔ بعد میں آپ کی زوجہ لیڈی ہیملٹن (Lady Hamilton) نے بھی اسلام قبول کرلیا تھا۔ سر آرچیبالڈ ہیملٹن سسیکس (Sussex) کے معروف جاگیردار خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اسلام قبول کرکے وہ دوسرے صاحب منصب انگریز شمار ہوئے جنھوں نے نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خاطر عیسائیت کو چھوڑ دیا۔ درج ذیل مضمون میں ،جو خصوصاً جریدہ "The People" کے لیے لکھا گیا تھا، سرآرچیبالڈ نے مذہب اسلام کو اختیار کرنے کے اسباب تفصیل سے اور بے تکلفانہ انداز میں بیان کیے ہیں ۔[1] (مدیر) شعور کی عمر کو پہنچنے کے بعد اسلام کے حسن اور سادہ پاکیزگی نے ہمیشہ مجھے متاثر کیے رکھا۔ اگرچہ میں عیسائی گھرانے میں پیدا ہوا اور اسی ماحول میں تربیت پائی مگر میں کلیسا کے پیچیدہ فلسفے کو قبول نہ کرسکا اور میں نے عیسائیت پر اندھا دھند ایمان رکھنے کے بجائے عقل و بصیرت کو ہمیشہ ترجیح دی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے خالق سے اپنا تعلق درست کرنے کی خواہش میرے دل میں پروان چڑھنے لگی اور میں اس نتیجے پر پہنچا کہ روم اور انگلینڈ کے چرچ میرے کسی کام نہیں آسکتے۔ اسلام قبول کرکے میں نے صرف اپنے ضمیر کا کہا مانا ہے اور تب سے میں اپنے آپ کو ایک بہتر اور زیادہ سچا انسان پاتا ہوں ۔ کوئی دوسرا دین اوروں کے جاہلانہ تعصب اور تنگ نظری کا اس قدر نشانہ نہیں بنا جتنا کہ اسلام بنا رہا ہے۔ اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ یہ دین سوشلزم کے مسئلے کا واحد سچا حل ہے کیونکہ یہ طاقتوروں کا مذہب ہے جو کمزوروں کا ساتھ دیتے ہیں اور امیروں کا مذہب ہے جو غریبوں کا [1] ۔ اسلامک ریویو، فروری، 1924ء، ج:12،ش:2،ص:51,49