کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 117
سے میرے دل و دماغ پر مرتب ہوئے، تاہم یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ اسلام سے مجھے کون کون سے سبق حاصل ہوئے۔ ایک بات یہ ہے کہ اسلام تمام انسانیت کی رہنمائی مقصدِ تخلیق کی جانب کرتا ہے اور ان بلند پایہ مقاصد کے حصول کی راہ دکھاتا ہے جن کے لیے انسان کو تخلیق کیا گیا۔ اسلام انسانی معاشرے کو امن و امان کا پیغام دیتا ہے۔ مساوات و اخوت کا رشتہ قائم کرتا ہے اوررنگ، نسل اور قومیت کے تمام اختلافات اور تنازعات کو ختم کرتا ہے۔ یہ انسانوں کو سماجی اور معاشی استحصال اور تمام امتیازات سے نجات دلاتا ہے اور انھیں صاف سیدھے راستے پر چلنے کی صحیح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام صرف زندگی کے ٹھہراؤ اور زوال ہی کی مخالفت نہیں کرتا بلکہ یہ تمام بنی نوع انسان کو ترقی اور پیش رفت کی طرف بھی بلاتا ہے۔ یہ فرد کو روپیہ اور دولت کما کر صنعتی اور تجارتی ترقی کی اجازت دیتا ہے۔ یہ اُجرت اور انعامات وصول کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے، بشرطیکہ یہ سب قانونی اور جائز طریقے سے حاصل کردہ ہوں ۔ پس اسلام ایک مکمل اور جامع انقلاب ہے۔ یہ انقلاب اور کمال کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جو پوری انسانیت کو صحیح سمت میں راستہ دکھاتا ہے جس پر انسان اپنے آپ کو بین الاقوامی معاشرے کا فرد سمجھتا ہے۔ اسے فرائض کی سمجھ نصیب ہوتی ہے اور زندگی کے تقاضوں پر پورا اترنے کی جستجو کرتا ہے۔ دس سال قبل جب میں نے اسلام قبول کیا تو میرے گمراہ، پریشان اور باغی ذہن کو سکون اور آرام نصیب ہوا۔اللہ کی حمد و تسبیح اور شکر ہے کہ میں اطمینان اور سکون کی زندگی بسر کررہا ہوں ۔[1] [ڈاکٹر عبدالکریم ہربرٹ] (Dr.Abdul Karim Herbert) اسلام نے مجھے کیونکر متاثر کیا؟ سر عبداللہ آرچیبالڈ ہیملٹن بیرونیٹ (Archibald Hamilton Baronet) سابق سر [1] ۔ یقین انٹرنیشنل:22جون1983ء، ج:32،ش:14،ص:39,38