کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 113
کرنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا۔ معاشرے اور غیر مسلموں نے میری بہت مخالفت کی۔ مگر جب کسی آدمی کے دل میں ایمان جگہ پالے تو وہ اس دنیاوی مکرو فریب کی بجائے صرف اللہ ہی سے ڈرتا ہے۔ ٭اسلام کا مطالعہ: میں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا اور پہلی ہی نظر میں اس کے دلکش حسن اور قرآن کے علمی خزانے نے مجھے مسحور کردیا۔ میں محسوس کرنے لگا کہ مجھے بہترین علم حاصل ہورہا ہے اور وہ قرآن کا علم ہے۔ صورت حال بدل گئی تھی۔ اب میں ہر طرح کی برائیوں سے پاک ہوچکا تھا۔ کلیتاً حدیث پاک کومدنظر رکھ کر میں نے صاف ستھری اور پاکیزہ زندگی بسر کرنا سیکھ لیا۔ ختنے کی ضرورت ہی نہ پڑی کیونکہ وہ قدرتی طور پر بچپن سے موجود تھا۔ شاید قدرت نے پہلے ہی میرے قبول اسلام کا فیصلہ کرلیا تھا۔اسلام کی دولت کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں والدین، بہن بھائیوں اور اپنے معاشرے کو چھوڑنا پڑتا ہے لیکن پیدائشی مسلمانوں کو اسلام کی دولت کسی محنت، مشقت یا تکلیف کے بغیر ہی مل جاتی ہے۔ اسلام وہ واحد مذہب ہے جو نہایت دلکش طریقے سے زندگی میں انقلاب لاتا ہے۔ میں نسلی مسلمانوں سے کہتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اسلام پیدائشی طورپر نصیب ہوا مگر میں نے اپنی پسند سے اسے اختیار کیا۔ میرے اور آپ کے درمیان یہی ایک فرق ہے، جو بہت بڑا امتیاز ہے۔ اب میرا نام عبدالعلیم خان ہے اور میں اپنی ضعیف العمر دادی اماں کے ساتھ -10 این پی ایس لائنز، ایسٹ سٹریٹ، اولڈ پول گیٹ، پونا- 411001 میں رہتا ہوں اور حق کو پاکر بہت اطمینان کی زندگی بسر کررہا ہوں ۔ میرا سابق نام منوج چند رپال پردیشی تھا۔ میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے ایمان کو توانا کردے اور انھیں پاکیزہ اور نیک زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین[1] [عبدالعلیم خان] [1] ۔ یقین انٹرنیشنل، 7مئی1986ء ج:35،ش:1ص:11,10