کتاب: اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں ؟ - صفحہ 103
ہونا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات مجھ پر پوری طرح منکشف ہو گئیں ۔[1] [ڈاکٹر تھامس اروِنگ] (Dr. Thomas Irving) عظیم رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے مصائب اور مشکلات کا مقابلہ غیرمتزلزل استقامت اور اﷲ پر توکل کے ساتھ کیا عظیم رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کی محبت اور عقیدت کے جلو میں وصال فرمایا۔ آپ نے کفّار کی جانب سے دی گئیں تکالیف اور مصائب کا مقابلہ غیر متزلزل استقامت اور اﷲ پر بھروسے کے ساتھ کیا ۔ فتح مکہ کے تاریخی موقع پر آپ نے شکست خوردہ دشمنوں سے رحم و کرم کا سلوک کیا اور اپنی قوت اور خوشحالی کے عروج پر بھی سادگی، کفایت شعاری اور بڑے چھوٹے سب سے برابر رحم دلی کا مظاہرہ کیا۔[2] [ولیم بی بشیر پکارڈ] (William B.Bashyr Pickard) اسلام نے رسالت کا جو تصور دیا ہے، رسالت اس سے کم و بیش نہیں مجھے عیسائیت چھوڑ کراسلام قبول کرنے پر آمادہ کرنے والی سب سے بڑی بات تصورِ رسالت ہے ۔ اسلام کا تصورِ رسالت، جو میرے خیال میں اصل عبرانی روایت کے عین مطابق ہے، دوسروں سے بہت مختلف ہے ۔ اسلام کے مطابق نبی کو اﷲ تعالیٰ سے براہِ راست کردارو اخلاق کی خوبیاں عطا ہوتی ہیں ۔ ان کے باعث وہ نیکیوں کا چلتا پھرتا نمونہ بن جاتا ہے جس کی صحبت ہی بڑے بڑے گناہ گاروں کو نیک بنا دیتی ہے۔ یہ تصور ہی لغو اور فضول ہے کہ تمام [1] ۔ اسلام، دی فرسٹ اینڈ فائنل ریلیجن، ص:127 [2] ۔ اسلامک ریویو، دسمبر1939ء، ج:27،ش:12،ص:476