کتاب: اسلام دینِ حق - صفحہ 283
کے درمیان اختلاف ہوا کہ کون سا قبیلہ حجرہ اسود کو اپنی جگہ پر رکھے۔ تو اس بات پر ان کا اتفاق ہوگیا کہ اب جو بھی انسان باہر سے پہلے مسجد میں داخل ہوگا؛ وہی اس بات کا فیصلہ کریگا۔ تو پہلے داخل ہونے والی ہستی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ اورلوگ آپ کے فیصلہ پر راضی ہوگئے۔ آپ نے چادر نیچے بچھائی؛ اورہر قبیلہ کے لوگوں نے چادر کے کونے پکڑ کر اسے اٹھایا اورجب وہ اپنی جگہ پر پہنچ گیا توآپ نے اسے مطلوبہ مقام پر رکھ دیا۔ لوگ آپ کے اس فیصلے پر راضی ہوگئے۔ آپ کو یہ شرف حاصل ہوا کہ حجراسود کو اپنے ہاتھوں سے اس کی جگہ پر رکھیں؛ اسے کسی دوسرے کا ہاتھ نہیں لگا۔
٭ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی ؛ کبھی آپ کا ستر نہیں کھلا۔
٭ اللہ سبحانہ و تعالیٰ آپ کو تنہائی پسند بنا دیا تھا۔ آپ غار ِ حرا میں تنہائی میں رہتے حتی کہ وہاں پر آپ کے پاس وحی آگئی ۔
٭ جب چالیس سال کی عمر کو پہنچے تو آپ مسلسل نبوت کی نشانیاں دیکھنے لگے۔ یہ سلسلہ کئی ماہ تک - اور کہا گیا ہے کہ چھ ماہ تک- ایسے ہی چلتا رہا۔ جو کچھ آپ نیند کی حالت میں خواب میں دیکھتے وہی کچھ جاگتے ہوئے ایسے ہی پیش آجاتا جیسے خواب میں دیکھا تھا۔
٭ اور یہ کہ بعض پتھر آپ کو نبی کہہ کر سلام کرتے تھے۔
٭ غارحراء میں آپ کے پاس فرشتہ آیا؛ اس نے آپ کو سینے کے ساتھ لگا کر بھینچا؛ اور کہا : پڑھ - یہ بات تین مرتبہ کی-؛آپ ہر بار یہی فرماتے: میں پڑھا ہوا نہیں ہوں؛یعنی لکھنا پڑھنانہیں جانتا۔پھر تیسری بار اس نے کہا :
{اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ(1)خَلَقَ الْاِِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ(2)اقْرَاْ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمُ(3)الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ(4)عَلَّمَ الْاِِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ} [العلق ۱۔۵]
’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھ جس نے پیدا کیا۔انسان کولوتھڑے سے پیدا کیا۔پڑھ اور آپ کا رب کریم ہے۔جس نے بذریعہ قلم علم دیا۔انسان کو وہ تعلیم