کتاب: اسلام دینِ حق - صفحہ 281
گزر چکا ہے-۔عرب اپنی زبان کے لیے بازار سجاتے اوروہاں پرخطبات؛ شعرو شاعری اور قصائد پڑھنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے۔ پھر ان میں سے افضل ترین قصیدہ اختیار کر کے اسے کعبہ کی دیواروں پر لٹکایا جاتا۔ اور اہل عرب کے ہاں تعظیم کے اعتبارسے یہ سب سے بڑی جگہ تھی۔ اورایسا وہ اپنی زبان کی بہت سخت تعظیم اور رعایت کی وجہ سے کیا کرتے تھے۔
اور عربی زبان ہی وہ زبان تھی جو اس دور میں پختہ ہو کر اپنے عروج کمال تک پہنچی ہوئی تھی ۔اور یہ مقام و مرتبہ کسی بھی دوسری عالمی زبان کو حاصل نہیں تھا۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کئی دوسری عالمی زبانوں نے بھی ترقی پائی تھی؛ مگروہ اس وقت اس مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچ سکی تھیں؛ان کی ترقی میں کمال بہت بعد کے زمانے میں آیا ہے حتی کہ بہت ساری وہ زبانیں جو آج ہمارے اس دور میں موجود نہیں ؛ اگر ساری نہیں تو ان میں سے اکثر زبانوں میں آج سے ہزار سال قبل تحریر و کتابت ممکن نہیں تھی۔
جبکہ عربی زبان کے نور کی کرنیں بہت پہلے ہی چمک اٹھی تھیں۔اور آج سے چودہ سو سال قبل اس کی بنیادیں مضبوط ہوچکی تھیں۔یہ اس زبان کی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے تدبیر تھی۔ اس لیے کہ عنقریب اللہ سبحانہ و تعالیٰنے اس زبان میں اپنا وہ کلام معجز[قرآن کریم] نازل کرنا تھا؛ جس نے قیامت تک بشریت سے مخاطب ہوتے ہوئے باقی رہنا ہے۔اور اگر عربی زبان اس بات کی اہل نہ ہوتی کہ اس میں قرآن نازل ہو؛ اور اس زبان کی کمزوری کے باوجود اس میں قرآن نازل ہوجاتا؛ توپھر یہ کلام کوئی ایسا معجزہ نہ ہوتا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی صداقت پر دلالت کرے۔ اور نہ ہی اس کے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے معجزانہ کلام ہونے پر کسی حجت کا قائم کرنا ممکن ہوتا۔
پھر جو کوئی عربی زبان کے انداز گفتگو اور مخارج حروف پر اچھی طرح سے غور و فکر کرے؛ اورمنہ میں اس کی حرکات پرتدبر کرے؛ اورپھر مشرق و مغرب کی تمام زبانوں کے ساتھ اس کا تقابل کرے؛ تو اس زبان کی دوسری تمام زبانوں برتری واضح ہوجائے گی۔[الاسلام دین الحق ]