کتاب: اسلام دینِ حق - صفحہ 195
استعمال ہونے والا]لفظ ’ تکویر‘‘ کوّر سے ماخوذ ہے؛ کسی چیز کو لپیٹ لینا؛ یعنی گولائی کی شکل میں اپنے اندر لے لپیٹ لینا اوریہ لفظ اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ اس کے اندر کوئی گیند نما چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ یُکَوِّرُ الَّیْلَ عَلَی النَّہَارِ وَیُکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی الَّیْلِ} [الزمر 5]
’’اس نے زمین و آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔ وہ رات کو دن پر اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے ‘‘[1]
آج سے تقریباً نو سوساٹھ سال پہلے[۴۵۶ھ میں]؛دسویں میلادی صدی کے شروع میں؛ گزرے ہوئے علامہ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
’’ یہ ایک واضح بیان ہے کہ زمین آپس میں گولائی میں لپٹی ہوئی ہے۔ یہ لفظ ’’کوّر العمامۃ‘‘پگڑی باندھی سے ماخوذہے؛ اور اسے گولائی میں باندھا جاتاہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ زمین گول ہے۔‘‘ [الفصل 2؍97]
ابن عاشور رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
[1] ) یہ پہلی عقلی دلیل ہے۔ جو اللہ تعالی کے بلا شرکت غیرے استحقاق عبادت پر دلالت کرتی ہے۔ البتہ اس میں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ زمین و آسمان کو اس نے عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔ بلکہ اس ساری کائنات کو اس نے ایک عظیم مقصد کے لیے پیدا فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ لوگ کائنات کے ذرے ذرے سے صانع عالم کی قدرت اور اس کی وحدانیت پر استدلال کریں۔
گردش لیل ونہار میں دلائل توحید :… یعنی شام کے وقت اگر مغرب کی طرف نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ادھر سے اندھیرا اوپر کو اٹھ رہا ہے۔ جو بتدریج بڑھتا جاتا ہے۔ تاآنکہ سیاہ رات چھا جاتی ہے۔ اسی طرح صبح کے وقت اجالا مشرق سے نمودار ہوتا ہے۔ جو بتدریج بڑھ کر پورے آسمان پر چھا جاتا ہے۔ اورجب صبح کو سورج نکل آتا ہے تو کائنات جگمگا اٹھتی ہے۔ ایسا نظر آتا ہے رات کو دن پر اور دن کو رات پر لپیٹا جارہا ہے۔ دن کو روشن کرنے اور رکھنے والی چیز سورج ہے۔ اور چاند رات کو روشنی دیتا ہے۔ یہ سورج اور یہ چاند جب سے پیدا کیے گئے ہیں؛ انسان کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں اور انسانوں کو ان سیاروں سے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ لیکن یہ نظام شمس و قمر بھی ابدی نہیں ہے۔ ایک وقت آئے گا جب ان کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔