کتاب: اسلام اور موسیقی - صفحہ 136
موسیقی سننا،سنانا،کسی قابل اعتبار سند سے ثابت نہیں۔ متاخرین میں سے بعض حضرات نے جو اس شغل کی تحسین کی ہے تو ان کا قول وعمل اس کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتا۔
قرآن پاک،احادیث اور صحابہ کرام کے انہی اقوال کی بنا پر ائمہ اربعہ یعنی امام مالک رحمہ اللہ،امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ،امام شافعی رحمہ اللہ او ر امام احمد رحمہ اللہ نے موسیقی اور آلات ملاہی کو حرام قرار دیا ہے،جس کی تفصیل فقہائے کرام کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ بلکہ اس کا اعتراف تو غامدی صاحب نے بھی کیا ہے کہ۔
فقہ کے چاروں مکاتب کا بالعموم اس بات پر اتفاق ہے کہ موسیقی اور آلات موسیقی مطلق طور پر حرام ہیں۔[اشراق:ص ۴۸]
اس لیے ہم یہاں اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ اس حوالے سے ان کے اقوال نقل کرکے بلاوجہ اپنے موضوع کو لمبا کریں۔ ہمارا مقصد صرف غامدی صاحب کے افکار کا جائزہ پیش کرنا تھا۔ ورنہ یہ موضوع وسیع الذیل ہے اوراس کے ابھی بہت سے پہلو تفصیل طلب ہیں۔ مگر یہ تمام مباحث سردست ہمارا موضوع نہیں۔ اس لیے ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ سے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کی دعا کرتے ہیں۔
اقول قولی ھذا واستغفراللّٰہ لی ولسائر المسلمین۔ آمین یارب العالمین
ارشاد الحق اثریؔ
٭٭٭