کتاب: اسلام اور موسیقی - صفحہ 135
میں ایک بات یہ بھی تھی : واظھارک المعازف والمزامیر بدعۃ فی الاسلام کہ تیرا آلات ملاہی اور مزامیر کو رواج دینا اسلا م میں بدعت ہے۔ [الحلیۃ ص۲۷۰،النسائی : رقم ۴۱۴۰] حضرت عمر رحمہ اللہ بن عبدالعزیز کا آلات ملاہی کو بدعت قرار دینا بھی اس کا موید ہے کہ صحابہ کرام میں ان کا رواج نہ تھا۔
علامہ الاذرعی رحمہ اللہ نے امام ابوالقاسم الدولقی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ :
لم ینقل عن احد من الصحابۃ رضی اللّٰہ عنہم انہ سمع الغناء ای المتنازع فیہ ولا جمع لہ جموعاً ولا دعا الناس إلیہ و لا حضر لہ فی ملأ و لا خلوۃ ولا اثنی علیہ بل ذمہ و قبحہ و ذم الاجتماع الیہ۔ [کف الرعاع : ص۲۷۹]
کسی صحابی سے منقول نہیں کہ ا س نے متازعہ فیہ غنا کو سنا ہو،نہ کسی صحابی رضی اللہ عنہم نے اس کے لیے کوئی مجلس منعقد کی،نہ اس کے لیے لوگوں کو دعوت دی،نہ جماعت میں یا تنہائی میں،مجلس سماع میں حاضر ہوا،نہ اس کی تعریف کی،بلکہ اس کی مذمت اور قباحت بیان کی اور اس کے لیے جمع ہونے کی مذمت کی۔
اسی طرح علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ان الغناء المطرب لم یکن من عادۃ النبی ا ولا فعل بحضرتہ ولا اتخذ المغنین و لا اعتنی بھم فلیس ذلک من سیرتہ ولا سیرۃ خلفائہ من بعدہ و لا من سیرۃ اصحابہ ولا عترتہ فلا یصح بوجہ نسبتہ الیہ ولا انہ من شریعتہ۔ [کف الرعاع : ص۲۸۰]
کہ غنا نبی کریم ا کی عادت نہ تھی،نہ ہی آپ کی موجودگی میں یہ کام کسی نے کیا،نہ گانے والے بلائے گئے،اور نہ ہی اس کا کوئی اہتمام کیا گیا۔ اس لیے غنا آپ کی سیرت نہیں،نہ آپ کے بعد آپ کے خلفاء کی یہ سیرت ہے،نہ دوسرے صحابہ کا یہ طریقہ ہے۔ نہ ہی آپ کی آل اولاد کا۔ اس لیے آپ کی طر ف غنا کی نسبت صحیح نہیں اور نہ ہی یہ آپ کی شریعت ہے۔‘‘ یہی بات شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی فرمائی ہے۔ ملاحظہ ہو مجموعہ الرسائل الکبریٰ [۲/۲۹۹]،علامہ البانی کے حوالے سے بھی اوائل میں ہم نقل کر آئے ہیں کہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے