کتاب: اسلام اور موسیقی - صفحہ 134
گھنگرو بھی باند ھ دیئے جاتے تھے۔اسی بنا پر حضرت عبداﷲ بن مسعود کے تلامذہ جہاں دف بجتی سنتے اسے توڑ پھوڑ دیتے تھے۔[تلبیس ابلیس : ص ۲۰۸،ابن ابی شیبۃ : ۹/۵۸] حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ اور عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کے اس فتویٰ سے بھی غنا اور آلات ملاہی کی حیثیت واضح ہو جاتی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ،حضرت ابن عمر،حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے آثار پہلے گزر چکے ہیں۔ ان کے برعکس کسی صحابی سے بسند صحیح ثابت نہیں کہ انھوں نے آلات ملاہی کو جائز اور مباحات فطرت میں سے قرار دیا ہے۔ بعض صحابہ کرام سے رجز اور حدی خوانی کے طور پر یاایمانی محبت میں اشعار پڑھنا سننا ثابت ہے لیکن غنا ئِ معروف کے طور پر اشعار خوانی ان سے بہرحال ثابت نہیں۔ بعض حضرات نے محض وزن بڑھانے کے لیے بعض صحابہ کرام کی طرف اس کا انتساب کیا ہے مگر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے صراحت کی ہے کہ: لم یثبت من ذلک شیء الا فی النصب المشارالیہ اولا۔[فتح الباری :۱۰/۵۴۱] ان میں سے کوئی شے ثابت نہیں سوائے نصب کے جس کی طرف ابتدا میں ہم نے اشارہ کیا ہے۔ اور’’ نصب‘‘ یہ بھی بدویوں کا گیت تھا جو حدی خوانی کے مشابہ ہوتا جس میں وہ شعر پڑھتے ہوئے آخر میں آواز کو لمبا کردیتے تھے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اسی نصب سے بعض نے موسیقی کے جواز پر استدلال کیا ہے جو افراط پر مبنی ہے،ان کے الفاظ ہیں : وافرط قوم فاستدلوا بہ علی جواز الغناء مطلقاً بالالحان التی تشتمل علیھا الموسیقی وفیہ نظر۔[فتح الباری: ۱۰/ ۵۴۳ ] ’’ایک قوم نے حد سے تجاوز کرتے ہوئے اس (نصب) سے مطلق طو رپر موسیقی پر مشتمل خوش الحانی سے گانے پر استدلال کیا ہے۔ مگرا س استدلال میں نظر ہے۔‘‘ اس لیے جن حضرات نے کچھ صحابہ کرام کے اشعار پڑھنے سے جو موسیقی پر استدلال کیا ہے وہ بہرحال غلط ہے اور خود فریبی ہے۔ پھر اگر کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے اس کے جواز کا قول منقول بھی ہے تو ظاہر ہے کہ اس کی وہ اہمیت نہیں جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما،ابن مسعود رضی اللہ عنہما ،ابن عمر رضی اللہ عنہما ،جابر رضی اللہ عنہ اورعائشہ رضی اللہ عنہا کے فتویٰ اور قول کی ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جو عمر بن ولید بن عبدالملک کو خط لکھا اس