کتاب: اسلام اور موسیقی - صفحہ 132
ھو فی حکم المرفوع اذ مثلہ لا یقال من قبل الرأی۔[روح المعانی: ۲۱/۶۰]
کہ یہ حکماً مرفوع ہے کیونکہ اس قسم کی بات رائے سے نہیں کہی جا سکتی۔ یہی بات علامہ اذرعی نے بھی کہی ہے اور اسے حکماً مرفوع قرار دیا ہے [کف الرعاع:۲/ ۲۷۹مع الزواجر] حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے غنا اور نفاق کے مابین موافقت پر بڑی نفیس بحث کی ہے۔ مگر یہ عجالہ اس تفصیل کا متحمل نہیں۔ شائقین اس کے لیے اغاثۃ اللہفان جلد اول ص۲۶۶ سے ص ۲۶۹ تک ملاحظہ فرمائیں۔
حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲعنہ کے اس فرمان سے غنا کی شناعت و قباحت واضح ہوتی ہے۔ کسے معلوم نہیں کہ نفاق ایمان کی ضد ہے۔ قرآن پاک کی تلاوت اور اﷲ تعالیٰ کا ذکر ایمان میں جلا پیدا کرتا ہے۔ جب کہ غنا سے نفاق پید اہوتا ہے اور جو علامات منافق میں پائی جاتی ہیں اکثر و بیشتروہی علامات پیشہ ور گانے والوں میں پائی جاتی ہیں۔ قرآن پاک اور ذکر و اذکار سے یہ لوگ تہی دامن ہوتے ہیں۔ نماز سے غافل اور اگر کہیں اہل ایمان میں پھنس جائیں تو شرما شرمی سے ہی پڑھتے ہیں۔ جو عمل اور پیشہ نفاق کی علامات پیدا کرے اس میں خیر کا پہلو کیا ہو سکتا ہے ؟ مگر اس حقیقت کے برعکس جناب غامدی صاحب فرماتے ہیں :
’’ اس روایت میں غنا کا لفظ ذکر الٰہی کے تقابل میں آیا ہے یہ اشتغال بالادنیٰ کے تقابل میں اشتغال بالاعلیٰ کی ترجیح ہے گویا یہاں غنا کی شناعت بیان نہیں ہو رہی بلکہ تلاوت قرآن کی ترغیب کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔ ‘‘[اشراق: ص ۱۰۶]
جناب موصوف کی دانشوری دیکھیے کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہما تو فرمائیں کہ غنا نفاق پیدا کرتا ہے مگر یہ حضرت فرماتے ہیں :’’یہاں غنا کی شناعت بیان نہیں ہو رہی۔‘‘ لا حول و لا قوۃ الا باللّٰہ ۔! ذکر الہٰی کے تقابل میں جو عمل ہوگا وہ قابل تحسین ہو گا یا باعث نفرین؟ بقول حافظ ابن قیم رحمہ اللہ گانے والے اوران کے ہم نوا منافقوں کی طرح بڑے دھڑلے سے مدعی ہیں کہ ﴿ نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ﴾ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ مگر امر واقع یہ ہے کہ ﴿اَلاَ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ ﴾ یہی لوگ فسادی ہیں۔ منافقین کی پوری کوشش رہی ہے کہ اہل ایمان میں