کتاب: انسانیت موت کے دروازے پر - صفحہ 247
اگرچہ آپ اس وقت بے حد کمزور تھے۔ پھر بھی ارشاد فرمایا:”مجھے ٹیک لگا کر بٹھا دو۔ ‘‘آپ کو بٹھا دیا گیا تو ارشاد فرمایا:
’’خدا کی قسم میں نے اپنی اولاد کا کوئی حق تلف نہیں کیا، البتہ وہ جودوسروں کا حق تھا، وہ نہیں دیا۔ میرا ان کا وارث صرف خدا ہے۔ میں ان سب کواسی کے سپردکرتا ہوں اگر یہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں گے تو وہ ان کے لئے کوئی سبیل نکالے گا۔ اگر یہ گناہوں میں مبتلا ہوں گے تو میں انہیں مال و دولت دے کران کے گناہوں کو قوی نہیں بناؤں گا۔ ‘‘
پھر آپ نے اپنے بیٹوں کوپاس بلایا اور فرمایا:”اے میرے عزیز بچو!دو باتوں میں سے ایک بات تمہارے اختیار میں تھی۔ ایک یہ کہ تم دولت مند ہو جاؤ اور تمہارا باپ دوزخ میں جائے۔ دوم یہ کہ تم محتاج رہو اور تمہارا باپ جنت میں داخل ہو۔ میں نے آخری بات پسندکر لی ہے۔ اب میں تمہیں صرف اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔ ‘‘
ایک شخص نے کہا:”حضرت کو روضہ نبوی کے اندر چوتھی خالی جگہ میں دفن کیا جائے۔ ‘‘یہ سن کر فرمایا:”خدا کی قسم!میں ہر عذاب برداشت کر لوں گا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جسم پاک کے برابراپناجسم رکھواؤں، یہ مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتا۔ ‘‘
اس کے بعد آپ نے ایک عیسائی کو بلایا:اس سے اپنی قبر کی زمین خریدنا چاہی۔ عیسائی نے کہا:”میرے لئے یہ عزت کیا کم ہے کہ آپ کی ذات پاک میری زمین میں دفن ہو۔ میں اب اس عزت کی کوئی قیمت وصول نہیں کروں گا۔ ‘‘
فرمایا:”یہ نہیں ہو سکتا۔ ‘‘آپ نے اصرار کر کے قیمت اسے اسی