کتاب: انسانیت موت کے دروازے پر - صفحہ 246
آپ کو زہر دلوا دیا۔ آپ کواس کا علم ہوا تو غلام کوپاس بلا لیا۔ اس سے رشوت کی اشرفیاں لے کر بیت المال میں بھجوا دیں اور پھر فرمایا: ’’جاؤ، میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے لئے معاف اور آزاد کرتا ہوں۔ ‘‘ طبیبوں نے فیصلہ کیا کہ زہر کے اخراج کی صورت کی جائے مگر آپ خلافت کی ذمہ داریوں میں ایک منٹ کا بھی اضافہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اطباء سے فرمایا: ’’اگر مجھے یقین ہو کہ مرض کی شفاء میرے کان کی لو کے پاس ہے تو میں پھر بھی ہاتھ بڑھا کراسے قبضے میں نہیں لاؤں گا۔ ‘‘ خلیفہ سلیمان نے خود ہی یزید بن عبد الملک کو آپ کا جانشین مقرر کر دیا تھا۔ آپ نے اس کے لئے حسب ذیل وصیت نامہ لکھوایا: ’’اب میں آخرت کی طرف چلا جا رہا ہوں، وہاں اللہ تعالیٰ مجھ سے سوال کرے گا، حساب لے گا اور میں اس سے کچھ چھپا نہیں سکوں گا۔ اگر وہ مجھ سے راضی ہو گیا تومیں کامیاب ہوں اگر وہ مجھ پر راضی نہ ہوا تو افسوس میرے انجام پر۔ تم کو میرے بعد تقویٰ اختیار کرنا چاہیے۔ رعایا کا خیال رکھنا چاہیے۔ تم میرے بعد زیادہ دیر تک زندہ نہ رہو گے۔ ایسانہ ہو کہ تم غفلت میں پڑ جاؤ اور تلافی کا وقت ضائع کر دو۔ ‘‘ سلمہ کو آپ کے اہل و عیال کا بہت خیال تھا، انہوں نے عرض کی: ’’امیرالمومنین کاش اس آخری وقت ہی میں آپ ان کے لئے کچھ وصیت فرما جاتے۔ ‘‘