کتاب: انسانیت موت کے دروازے پر - صفحہ 245
جب خلافت کی ذمہ داریوں کا پہاڑ آپ پر ٹوٹ پڑا تو غذا اور خوراک کے علاوہ میاں بیوی کے تعلقات سے بھی علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ سارادن سلطنت کی ذمہ داریاں ادا فرماتے اور رات کے وقت عشاء پڑھ کر تن تنہامسجدمیں بیٹھ جاتے اور ساری ساری رات جاگتے /سوتے گریہ و زاری میں بسر کر دیتے۔ فاطمہ رحمۃ اللہ علیہ سے ان کی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔ ایک دن انہوں نے تنگ آ کر پوچھا تو ارشاد فرمایا: ’’میں نے ذمہ داری کے سوال پر غور کیا ہے اور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ میں اس امت کے چھوٹے بڑے اور سیاہ وسفیدکاموں کا ذمہ دار ہوں۔ مجھے یہ یقین ہو چکا ہے کہ میری سلطنت کے اندرجس قدر بھی غریب، مسکین، یتیم، مسافر، مظلوم اور گمشدہ قیدی موجود ہیں، ان سب کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے متعلق مجھ سے پوچھے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان سب کے متعلق مجھ سے دعویٰ کریں گے۔ اگر میں خدا اور رسول کے سامنے جواب دہی نہ کر سکا تو میرا انجام کیا ہو گا؟جب میں ان با توں کوسوچتا ہوں تو میری طاقت گم ہو جاتی ہے، دل بیٹھ جاتا ہے۔ آنکھوں سے آنسوبے دریغ بہنے لگتے ہیں۔ ‘‘ آپ رات بھر جاگ کر موت کی جواب دہی پر غور کرتے تھے اور پھر دفعۃً بے ہوش ہو کر گر پڑتے تھے۔ آپ کی بیوی ہرچند آپ کوتسلی دیتی تھیں مگر آپ کا دل نہیں ٹھہرتا تھا۔ حضرت نے اسی حال میں خلافت کے اڑھائی سال گزارے۔ رجب 101ھ میں امیہ خاندان کے بعض لوگوں نے آپ کے غلام کو ایک ہزار اشرفی دے کر