کتاب: انسان کی عظمت اور حقیقت - صفحہ 77
یونانی فلسفہ انہیں سنا رہے ہو، دہریئے جو دین کو نہیں مانتے تو یہ اسی معرفت ہی کی برکت ہے وگرنہ وحی تو ایسی تعلیم ہے کہ جس کے سامنے سوائے سر تسلیم خم کرنے کے اور کوئی چارہ ہی نہیں ۔ قال: یہ انسانی دماغ جو کبھی کائنات کے چکر لگانے میں مصروف ہے توکبھی مادی حجابات کے پردے اٹھانے میں ۔ مگر رب تبارک و تعالی کی ذات و صفات کے علم پر نہ پہنچے تو بے کار ہے ۔ یہ ہے ’’لا اله الا الله ‘‘کی معرفت کی انتہا۔(صفحہ 43) اقول: یہ معرفت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا سلف صالحین رحمہم اللہ کو بھی تھی یا صرف آپ پر نئی نازل ہوئی ہے؟ اِيْتُوْنِيْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ھٰذَآ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ Ć۝ [1] اگر تم سچے ہو تو اس سے پہلے ہی کی کوئی کتا ب یا کوئی علم جو منقول چلا آرہا ہو میرے پاس لاؤ۔ اللہ تبارک و تعالی کی ذات اور صفات پر ایمان بالغیب لانا ہے، اور یہی حکم ہمیں بھی دیا گیا ہے۔ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ Ǽ وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ Ć۝ۭ اُولٰۗىِٕكَ عَلٰي ھُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ ۤ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Ĉ۝[2] جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور جو کتاب آپ پر نازل ہوئی اور جوکتابیں آپ سے پہلے انبیاء پرنازل ہوئیں ، سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں ۔ اللہ تعالی نے تو انسانی علم کی انتہا یہ بتلا رہا ہے اور جو تم بتا رہے ہو یہ نہ قرآن میں ہے اور نہ [1] الاحقاف:4 [2] البقرة :3-5