کتاب: انسان کی عظمت اور حقیقت - صفحہ 35
ذلك ما اثبته الله تعالیٰ و یؤمنون به و یصدقون الرب جل جلاله فی خبره ویطلقون ما اطلقه سبحانه و تعالیٰ من استوائه علی العرش و یمرون علی ظاهره و یکلون علمه الی الله[1] کہ عقیدہ اہل سنت والجماعت اس طرح ہے اور اسی طرح وہ اس کی ان صفات کے بارے میں کہتے ہیں جو قرآن مجید میں نازل ہوئیں یا احادیث صحیحہ میںمذکور ہیں مثلاً سنن، دیکھنا، آنکھ، چہرہ، علم، قوت، قدرت، عزت، عظمت، ارادہ، مشیت، قول، کلام، رضامندی، ناراضگی، خوشی، زندہ ہونا، جاگنا، اور ہنسنا وغیرہ ان صفات میں سے کسی ایک کی بھی مخلوق کے ساتھ تشبیہ دئے بغیر ایمان لاتے ہیں بلکہ ان کی آخری بات وہی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہو نہ اس میں کوئی زیادتی کرتے ہیں اور نہ ہی کمی نہ اس کی کوئی کیفیت متعین کرتے ہیں اور نہ ہی اس کو کسی کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں اور نہ ہی اس میں کوئی تبدیلی اور تغیر کرتے ہیں اور نہ ہی اہل عرب کے بیان کردہ معنی کے خلاف کوئی غلط تاویل کرتے ہیں بلکہ اس کو ظاہر پر محمول کرتے ہیں اور اس کا علم اللہ کے سپرد کرتے ہیں اور وہ اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ ان کی تاویل اللہ کے سواء کوئی بھی نہیں جانتا جیسا اللہ تعالیٰ نے پختہ علم والوں کے بارے میں کہا ہے یہ بھی ویسا ہی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿جولوگ علم میں دستگاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے یہ سب آیات ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقلمند ہی قبول کرتے ہیں﴾اہل حدیث کا یہ عقیدہ ہے اور وہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ساتویں آسمان کے اوپر اپنے عرش پر ہے جیسا کہ قرآن مجید میں بیان کیاگیا ہے۔ [1] الرسائل المنیریہ ج1ص107.110