کتاب: انسان کی عظمت اور حقیقت - صفحہ 102
خوبیاں بتلائی گئی ہیں: 1۔ایک دوسرے پر رحم کرنے والے 2۔اللہ کے دشمنوں پر سختی کرنے والے 3۔رکوع اورسجدہ کرنے والے نیز یہ بھی بتلایا گیا کہ یہ خوبیاں تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کے لئے ہیں نہ کہ کسی ایک کے لئے خاص ہیں اللہ تعالی کی طرف سے ان کے لئے یہ شہادت تھی کہ : یبتغون فضلا من الله ورضوانا[1] کہ صحابہ کاکام نیکی کا حصول اور رضاء الہی کی تلاش ہے۔ اور یہی گواہی تورات اور انجیل میں بھی مذکور ہے ۔ مقرر صاحب نے جس جھوٹی روایت کا سہارا لیا ہے اس میں اس طرح نہیں کہ چار گواہ ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دعوی ہے گویا مولوی صاحب نے ایک موضوع روایت میں اپنی طرف سے مزید اضافہ کیا ہے۔ قال : رب تعالی کے پاس رحمان کی مکمل تجلی ہے اور اسی تجلی کے فیض میں فرمایا ہے: وما ارسلنك الا رحمة للعلمین[2] اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ اقول: یہاں بھی وہی صوفیانہ مراد لی گئی ہے علاوہ ازیں اس عبارت سے پہلے لکھتے ہیں : ’’ساروں کو اسی رحمت نے پریشان کر دیا، یہ اس کا اثر اور کرنٹ ہے‘‘(ص40) یہ تو وہی اللہ تعالی کو اجزا میں تقسیم کرنے والا عقیدہ ہے نعوذ باللہ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو رحمت اور شفقت ودیعت کی گئی ہے وہ اسی رحمت کے سودرجات میں سے ایک درجہ ہے جو اللہ نے اہل زمین کو عطا کیا ہے اور حدیث مبارکہ کا یہی مطلب [1] الفتح: 29 [2] الانبیاء:107