کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 2 - صفحہ 315
فرمایا تھا، لیکن اس کی بعض روایات میں ’’نضر اللّٰه‘‘ کے بجائے ’’رحم اللّٰه‘‘ ہے، ’’من سمع‘‘ کے بجائے ’’امرا سمع‘‘، ’’مقالتي‘‘ کے بجائے ’’حديثا‘‘، ’’بلغه‘‘ کے بجائے ’’أداه‘‘، ’’فرب مبلغ أفقه من مبلغ‘‘ کے بجائے ’’فرب مبلغ اوعي من سامع‘‘ اور ’’رب حامل فقه لا فقه له‘‘ کے بجائے ’’ليس بفقيه‘‘ کے الفاظ مروی ہیں۔ اگرچہ یہ تمام الفاظ ہم معنی ہیں لیکن باہم ان کا متغایر ہونا ان کے بالمعنی مروی ہونے پر دلالت کرتا ہے، جیسا کہ علامہ خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے بھی بیان کیا ہے۔[1] پس جو حدیث خود بالمعنی مروی ہو وہ روایت بالمعنی کے انکار پر دلیل کیوں کر بن سکتی ہے؟ دوسرا گروہ: علماء کے اس دوسرے گروہ میں وہ حضرات شامل ہیں جن کا موقف یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر حدیث کو اس کے اصل الفاظ کے ساتھ بلا تقدیم و تاخیر اور زیادتی و نقص کے ادا کرنا ہی واجب ہے، لیکن اگر حدیث کا تعلق کسی امتی سے ہو اور اصل الفاظ کی محافظت اور ادائیگی ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں یہ دیکھا جائے گا کہ اس روایت کا اصل معنی و مقصد درست طور پر ادا ہو جاتا ہے یا نہیں؟ اگر ادا ہو جاتا ہو تو ایسی روایت میں کوئی حرج نہیں سمجھا جائے گا، چنانچہ علامہ خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے اس بارے میں ایک مستقل باب ہی اس عنوان کے ساتھ قائم کیا ہے: ’’باب ذكر الحكاية عمن قال يجب أداء حديث رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم علي لفظه و يجوز رواية غيره علي المعني‘‘ [2] اور اس باب کے تحت جو روایات نقل کی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے: سعید بن عفیر بیان کرتے ہیں کہ مالک بن انس کا قول ہے: ’’كل حديث للنبي صلي اللّٰه عليه وسلم يؤدي علي لفظه و علي ماروي وما كان عن غيره فلا بأس إذا أصاب المعني‘‘ [3] عبداللہ بن عبدالحکم بیان کرتے ہیں کہ اشہب نے فرمایا کہ میں نے مالک رحمہ اللہ سے ایسی احادیث کے متعلق سوال کیا جن میں تقدیم و تاخیر کی گئی ہو، لیکن اس کا معنی و مفہوم ایک ہی ہو تو آں رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’أما ما كان منها من قول رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم فإني أكره ذلك و أكره أن يزاد فيها و ينقص منها وما كان من قول غير رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم فلا أري بذلك بأسا إذا كان المعني واحدا‘‘ [4]
[1] الکفایۃ: ص 202 [2] ، [3] نفس مصدر: ص 188 [4] نفس مصدر: ص 189