کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 2 - صفحہ 312
معن بن عیسیٰ بیان کرتے ہیں: ’’كان مالك بن انس يتقي في حديث رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم ما بين التي والذي و نحوهما‘‘ [1] امام مالک رحمہ اللہ کے اس موقف کے متعلق امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’وهو الصحيح من مذهب مالك‘‘ [2] امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے امام عبدالرحمٰن بن مہدی کے متعلق روایت کی ہے کہ ’’وہ حدیث کو باللفظ روایت کرنا پسند کرتے تھے‘‘۔ [3] امام سیوطی رحمہ اللہ نے ثعلب رحمہ اللہ اور ابوبکر رازی رحمہ اللہ کے نزدیک [4] اور حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ اور زہری کے نزدیک روایت بالمعنی کا جائز نہ ہونا بیان کیا ہے۔ [5] فقہاء میں سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے متعلق ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’إن أبا حنيفة لا يجيز الرواية بالمعني‘‘[6] اور شیخ زاہد کوثری فرماتے ہیں: ’’وكذلك اقتصار تسويخ الرواية بالمعني علي الفقيه مما يراه أبو حنيفة حتما‘‘ [7] حالانکہ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کا دعویٰ ہے کہ: ’’جوزه جمهور السلف والخلف منهم الأئمة الأربعة‘‘ [8] علامہ خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے ’’الکفایۃ فی علم الروایۃ‘‘ میں اس گروہ کے موقف کو مندرجہ ذیل ابواب کے تحت ذکر کیا ہے: 1- ’’باب ما جاء في رواية الحديث علي اللفظ ومن رأي ذلك واجبا‘‘ [9] 2- ’’باب ذكر الرواية عمن لم يجز تقديم كلمة علي كلمة‘‘ [10] 3- ’’باب ذكر الرواية عمن لم يجز ابدال كلمة بكلمة‘‘[11]
[1] نفس مصدر: ص 178 [2] فتح المغیث للسخاوی: 3/140 [3] الکفایۃ: ص 167، 206، المحدث الفاصل للرامہرمزی: ص 534، جامع بیان العلم لابن عبدالبر: 1/81، سنن الدارمی: 1/79، فتح المغیث للسخاوی: 3/147 [4] تدریب الراوی: 2/98-99 [5] فتح الباری: 5/63، 11/112 [6] سند الانام شرح مسند الامام ابی حنیفہ: ص 3 [7] فقہ اھل العراق و حدیثھم: ص 35، تقدمۃ نصب الرایہ للکوثری: 1/28 [8] تدریب الراوی للسیوطی: 2/98-99 [9] الکفایۃ: ص 171 [10] نفس مصدر: 175 [11] الکفایۃ: ص 173