کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 2 - صفحہ 283
’’کیوں نہیں، میں نے فضائل علی میں ستر (70) حدیثیں گھڑی ہیں۔‘‘ [1]
ابوداود النخعی لوگوں میں رات کو طویل قیام کرتا اور دن میں بکثرت روزے رکھتا تھا مگر حدیث گھڑتا تھا۔ (تفصیلی ترجمہ کے لئے حاشیہ [2] کے تحت درج کردہ کتب کی طرف رجوع فرمائیں۔)
امام ابن حبان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ’’ابو بشر احمد بن محمد الفقیہ المروزی بھی حدیثیں گھڑا کرتا تھا۔‘‘ [3] (تفصیلی ترجمہ کے لئے حاشیہ [4] کے تحت مذکورہ کتب کی طرف مراجعت مفید ہو گی۔(
اور امام ابن عدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ: ’’وھب بن حفص صالحین میں سے تھا، بیس سال گوشہ نشین رہا۔ اس دوران اس نے کسی سے گفتگو تک نہ کی، لیکن ابو عروبہ کا قول ہے کہ فحش قسم کا جھوٹ بولا کرتا تھا۔‘‘ [5] (تفصیلی ترجمہ کے لئے حاشیہ [6] کے تحت درج شدہ کتب کی طرف مراجعت مفید ہو گی۔)
لیکن چونکہ یہاں ہمارا موضوع بحث تصوف یا صوفیاء کے افکار و اعتقادات پر بحث کرنا نہیں ہے، لہٰذا ہم اس پہلو سے صرف نظر کرتے ہوئے یہ ضرور کہیں گے کہ: ’’اہل تصوف کے اصل دین سے انحراف پر مبنی خیالات اور تصورات اعمال‘‘ بلکہ دین اسلام کے مقابلہ میں ایک دوسرا متوازی دین لاکھڑا کرنا ’’محدثین کی مہربانیوں کا نتیجہ‘‘ نہیں خود انہی دشمنان اسلام کی مجرمانہ سازشوں کا انجام ہے۔ اصلاحی صاحب محترم نے بلاوجہ اور خواہ مخواہ ہی بے چارے محدثین کو اس اضلالت کا اکیلا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، فإنا للہ و إنا إلیہ راجعون۔
بعض متساہل محدثین:
[1] تاریخ یحییٰ بن معین: 2/544، 4/398، المعرفۃ والتاریخ للبسوی: 3/57، التاریخ الکبیر للبخاری: 2/2 ص 28، التاریخ الصغیر للبخاری: 2/292، الضعفاء الصغیر للبخاری: نمبر 53، الضعفاء الکبیر للعقیلی: 2/134، الضعفاء والمتروکین للدارقطنی: نمبر 614، الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی: 2/22، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم: 2/1 ص 132، میزان الاعتدال: 2/216، الکشف الحثیث للحلبی: ص 202، التحقیق لابن الجوزی: 1/199، الموضوعات لابن الجوزی: 2/229، 3/125، العلل المتناھیۃ فی الاحادیث الواھیۃ لابن الجوزی: 1/383، 2/244، تنزیہ الشریعۃ لابن عراق: 1/65، قانون الموضوعات والضعفاء للفتنی: ص 261، نصب الرایۃ للزیلعی: 1/191، 192، 4/417
[2] الموضوعات لابن الجوزی: 1/40-41، تدریب: 1/283، اللآلی: 2/469
[3] المجروحین لابن حبان: 1/156، الضعفاء والمتروکین للدارقطنی: نمبر 60، میزان الاعتدال للذھبی: 1/149، المغنی فی الضعفاء: نمبر 438، لسان المیزان: 1/290، الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی: 1/88، الکشف الحثیث للحلبی: 73، قانون الموضوعات والضعفائ للفتنی: ص 237، الکامل فی الضعفاء لابن عدی
[4] اللآلی المصنوعۃ للسیوطی: 2/470، تدریب الراوی للسیوطی: 1/283، الموضوعات لابن الجوزی: 1/41
[5] المجروحین لابن حبان: 3/86، الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی: 3/188، الکشف الحثیث للحلبی: ص 453، میزان الاعتدال: 4/351، قانون الموضوعات والضعفاء للفتنی: ص 302، تنزیہ الشریعۃ لابن عراق: 1/125، فتح الباری لابن حجر: 10/ 420، مجمع الزوائد للہیثمی؛ 1/227، 2/8
[6] الموضوعات لابن الجوزی: 1/52