کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 2 - صفحہ 282
ہوئے سنا کہ آپ عکرمہ عن ابن عباس فضائل قرآن میں فلاں فلاں سورہ کی فضیلت کہاں سے بیان کرتے ہیں حالانکہ عکرمہ کے اصحاب میں سے اسے کوئی بیان نہیں کرتا؟ تو انہوں نے جواب دیا:
’’جب میں نے لوگوں کو قرآن سے اعراض کرتے ہوئے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے فقہ نیز ابن اسحاق کے مغازی کے ساتھ اشتغال کرتے دیکھا تو اس بارے میں یہ حدیث گھڑ ڈالی۔‘‘ [1]
واضح رہے کہ یہ ابو عصمہ وہ شخص تھا جس نے امام ابو حنیفہ اور ابن ابی لیلیٰ سے فقہ، حجاج بن ارطاۃ سے علم حدیث، کلبی و مقاتل سے تفسیر اور ابن اسحاق سے مغازی کا علم حاصل کیا تھا، مرو کا ولی القضاۃ تھا، ’’الجامع‘‘ کہلاتا تھا، لیکن امام ابن حبان رحمہ اللہ کا قول ہے کہ: ’’جمع كل شيء إلا الصدق‘‘[2]یعنی اس نے صدق کے سوا سب کچھ جمع کر دیا تھا۔‘‘ تفصیلی ترجمہ کے لئے حاشیہ [3] کے تحت مذکورہ کتب کی طرف مراجعت مفید ہو گی۔
اسی طرح امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ’’الضعفاء‘‘ میں ابن مہدی سے روایت کی ہے کہ میں نے میسرہ بن عبد ربہ سے پوچھا کہ یہ احادیث تمہیں کہاں سے ملیں کہ جس نے فلاں سورہ پڑھی تو اس کا اتنا اور اتنا ثواب ہے؟ اس نے جواب دیا:
’’میں نے اس کو خود گھڑا ہے تاکہ اس سے لوگوں کو رغبت دلاؤں۔‘‘ [4]
میسرہ بن عبد ربہ کے تفصیلی ترجمہ کے لئے حاشیہ[5] کے تحت درج کردہ کتب کی طرف مراجعت مفید ہو گی۔
ایک شخص مرغوبات دنیا سے کنارہ کش تھا۔ اس کی موت پر بغداد کے بازار بند ہو گئے تھے، لیکن باوجود اس کے وہ حدیث گھڑا کرتا تھا۔ کسی شخص نے اس کی موت سے کچھ قبل پوچھا: ’’حسن ظنك؟‘‘ تو اس نے جواب دیا:
[1] المدخل للحاکم: ص 20، مقدمۃ ابن الصلاح: ص 111، الموضوعات لابن الجوزی: 1/41، تدریب الراوی: 1/282، میزان الاعتدال: 4/279، اللآلی المصنوعہ: 2/469، قواعد التحدیث: 156
[2] التاریخ الکبیر للبخاری: 4/11-12، التاریخ الصغیر للبخاری: 2/179، 230، الضعفاء الکبیر للعقیلی: 4/304، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم: 4/1 ص 484، المجروحین لابن حبان: 3/48، الکامل لابن عدی: 7 نمبر 2505، العلل لابن حنبل: 1/220، میزان الاعتدال: 4/279، تہذیب التہذیب: 10/487-488، تقریب التہذیب لابن حجر: 2/209، الضعفاء والمتروکین للدارقطنی: 359، الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی: 3/67، قانون الموضوعات والضعفاء للفتنی: ص 301، سنن الدارقطنی: 2/12، الموضوعات لابن الجوزی: 1/41، 2/60، 76، 292، 3/35، 40، 228، تنزیہ الشریعۃ: 1/122، نصب الرایۃ: 1/154، 213، 3/150، مجمع الزوائد: 2/95، 124، تحفۃ الاحوذی: 4/395
[3] الموضوعات لابن الجوزی: 1/40، میزان الاعتدال: 4/230، اللآلی المصنوعہ: 2/469، تدریب الراوی: 1/283، قواعد التحدیث: ص 156
[4] التاریخ الکبیر للبخاری: 4/377، التاریخ الصغیر للبخاری: 2/171، 211، الضعفاء الصغیر للبخاری: نمبر 109، الضعفاء الکبیر للعقیلی: 4/263، المجروحین لابن حبان: 3/11، الجرح والتعدیل: 4/254، الکامل لابن عدی: 6 نمبر 2422، الضعفاء والمتروکین للنسائی: 580، الضعفاء والمتروکین للدارقطنی: نمبر 510، الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی: 3/151، میزان الاعتدال: 4/231، الکشف الحثیث للحلبی: ص 435، لسان المیزان لابن حجر: 6/138، تاریخ ابن معین: 2/599، قانون الموضوعات والضعفاء للفتنی: ص 300، تنزیہ الشریعۃ: 1/121، سنن الدارقطنی: 2/107، نصب الرایہ: 2/373، 483
[5] تدریب الراوی: 1/283، مقدمہ منھاج الصالحین: ص 32