کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 2 - صفحہ 272
گزر چکا ہے کہ آں رحمہما اللہ اس بات کے قائل ہیں کیونکہ ان کے نزدیک ضعیف حدیث شخصی قیاس اور رائے سے قوی تر ہے۔‘‘ [1]
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ [2] اور امام شافعی [3] رحمہما اللہ کا ضعیف حدیث کو قیاس پر مقدم فرمانا، امام مالک [4] کا مرسل و منقطع احادیث کو قیاس پر ترجیح دینا اور علمائے حنفیہ کے نزدیک بھی ضعیف حدیث کا قیاس و اجتہاد سے اولیٰ ہونا [5] کتب مصطلحات میں بصراحت مذکور ہے۔
علماء جن کے نزدیک ضعیف حدیث فضائل اعمال وغیرہ میں بلا قید و شرط مقبول ہے
علماء کا یہ گروہ احکام شرعی اور عقائد میں ضعیف حدیث کو حجت تسلیم نہیں کرتا مگر فضائل اعمال، ترغیب و ترہیب اور مناقب وغیرہ کے باب میں ضعیف احادیث کو غیر مشروط طریقہ پر قبول کرنے کا قائل ہے۔ اس فکر کے قائل حضرات میں ابو زکریا العنبری، عبدالرحمان بن مہدی، احمد بن حنبل، عبداللہ بن مبارک، بیہقی، نووی، ابن الصلاح، ابن عبدالبر، علاء الدین بن محمد بن علی الحصکفی الحنفی، ابن عابدین حنفی، ابن حجر الہیثمی المکی، جلال الدین سیوطی، ملا علی قاری حنفی اور ابن الھمام حنفی وغیرہم کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔ ان تمام حضرات کا موقف یہ ہے کہ:
’’جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حلال و حرام اور احکام کی کوئی خبر روایت کرتے ہیں تو اسانید میں تشدد اور رجال میں تنقید سے کام لیتے ہیں مگر جب فضائل اعمال اور ترغیب و ترہیب وغیرہ میں کوئی خبر روایت کرتے ہیں تو اسانید میں تساہل اور رجال میں میں تسامح کو روا رکھتے ہیں۔‘‘
تفصیل کے لئے حاشیہ [6] کے تحت درج کردہ کتب کی طرف مراجعت مفید ہو گی۔
[1] تدریب الراوی: 1/299
[2] فتح المغیث للسخاوی: 1/333، المحلی لابن حزم: 1/68، التقیید والایضاح للعراقی: ص 121، تدریب الراوی للسیوطی: 1/168، الاعتصام للشاطبی: 1/246، منھاج السنۃ لابن تیمیہ: 2/191، قواعد التحدیث للقاسمی: ص 117-118، ضعیف احادیث کی معرفت: ص 89
[3] المجموع للنووی: 7/479، المذہب للشیرازی: 1/219، فتح العزیز شرح الوجیز للرافعی: 7/518-520، فتح المغیث للسخاوی ج 1 ص 333، ضعیف احادیث کی معرفت: ص 95
[4] اعلان الموقعین لابن قیم: 1/31-32، ضعیف احادیث کی معرفت: ص 95
[5] ملخص إبطال القیاس لابن حزم: ص 68، مناقب الامام ابی حنیفہ للذہبی: ص 21، فتح المغیث للسخاوی: 1/333، احکام فی اصول الاحکام لابن حزم: 7/54، خیرات الحسان لابن حجر الہیثمی المکی: ص 78، قواعد التحدیث للقاسمی 118، ظفر الامانی شرح مختصر الجرجانی لابی الحسنات 108، اعلام الموقعین لابن قیم: 1/77، قواعد فی علوم الحدیث للتھانوی: ص 96، ضعیف احادیث کی معرفت: ص 95-97
[6] فتح المغیث للسخاوی: 1/331-334، الکفایۃ للخطیب: ص 134، الجامع للخطیب: 2/90-91، المدخل للحاکم: ص 4، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم: 1/1 ص 30-31، المحدث الفاصل للرامہرمزی: ص 406، 418، لسان العیون فی سیرۃ الأمین المأمون للحلبی: ½، التمہید لابن عبدالبر: 6/39، الأذکار للنووی: ص 7-8، تقریب النواوی مع تدریب الراوی: 1/298، النکت: 2/663، مقدمۃ الکامل لابن عدی: ص 240-242، منہاج السنۃ النویۃ لابن تیمیہ: 3/8، المسودہ: ص 273، مختصر الباعث الحثیث لابن کثیر بتحقیق احمد شاکر: ص 101، تدریب الراوی للسیوطی: 1/298، دلائل النبوۃ للبیہقی: 1/33-34، ما تمس إلیہ حاجۃ القاری لصحیح الامام البخاری للنووی 87، قواعد التحدیث للقاسمی: ص 116، فتح المغیث للعراقی 137، در المختار: 1/87، رد المختار لابن عابدین علی ھوامش رد المختار: 1/87، فتح المبین لابن حجر الہیثمی: ص 32، الاسرار المرفوعۃ للقاری: ص 31، فتح القدیر لابن الھمام: 1/246، قواعد فی علوم الحدیث للتھانوی: ص 37، الاجوبہ الفاضلۃ لابی الحسنات، ص:37، تحفۃ الکملۃ لابی الحسنات: ص 4، ظفر الامانی لابی الحسنات: ص 98، مقدمۃ مختصر الترغیب والترہیب لابن حجر بتحقیق حبیب الرحمٰن اعظمی: ص 2، تحفۃ اہل الفکر للشیخ عبدالرحمٰن: ص 26، ضعیف احادیث کی معرفت: ص 98-105