کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 2 - صفحہ 248
1- ’’مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ ‘‘ [1]
اور
2- ’’عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَّ أَنَّهُ قَالَ : يَا ابْنَ عُمَرَ دِينُكَ دِينُكَ ، إِنَّمَا هُوَ لَحْمُكَ وَدَمُكَ , فَانْظُرْ عَمَّنْ تَأْخُذُ , خُذْ عَنِ الَّذِينَ اسْتَقَامُوا , وَلَا تَأْخُذْ عَنِ الَّذِينَ مَالُوا‘‘ [2]
لیکن امام ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’اس کی سند میں عطاف بن خالد المخزومی ہے جو کہ مجروح ہے۔‘‘ لیکن اس کی توثیق و تضعیف میں علماء کا اختلاف پایا جاتا ہے، بظاہر وہ صدوق ہے لیکن اسے وہم ہو جاتا ہے۔ [3] علامہ سخاوی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو غیر درست (لا یصح) [4]قرار دیا ہے۔
اور
3- حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے: ’’انظروا عمن تأخذون هذا العلم فإنما هو الدين‘‘ [5]
لیکن امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’أما المذهب الأول فضعيف جدا‘‘[6]یعنی ’’یہ مذہب نہایت کمزور ہے‘‘۔ اسی طرح امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’وھو بعید‘‘[7]یعنی ’’یہ انصاف سے بعید ہے‘‘۔
فریق دوم:
محدثین کے دوسرے گروہ نے مفسق بدعت کی روایات کو مطلقاً قبول کیا ہے بشرطیکہ وہ جھوٹ کے حلال ہونے کا اعتقاد نہ رکھتا ہو۔ اس گروہ کے سرخیل امام شافعی رحمہ اللہ ہیں۔ امام ابن ابی لیلیٰ، امام ثوری، امام ابو حنیفہ، قاضی ابو یوسف اور یزید بن ھارون وغیرہم [8] بھی اسی فکر کے حامل ہیں۔ امام حاکم رحمہ اللہ نے ’’المدخل‘‘[9]میں اسے اکثر ائمہ حدیث سے حکایت کیا ہے۔ فخر الدین رازی نے اس مسلک کو حق سے تعبیر کیا ہے۔ [10] ابن دقیق العید رحمہ اللہ بھی اسے راجح قرار دیتے ہیں۔ [11] علامہ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اس بارے میں جو چیز معتمد ہے یہ ہے کہ جو شخص شریعت کے متواتر اور معلوم امور کا انکار نہ کرتا ہو اور
[1] صحیح بخاری مع الفتح: 5/259، 6/230، صحیح مسلم: 3/343، سنن ابی داود مع العون: 4/329، سنن ابن ماجہ: 1/6
[2] الکفایۃ: ص 121، مقدمۃ الکامل: ص 2136، العلل المتناھیۃ لابن الجوزی: 1/123، فتح المغیث للسخاوی: 2/59
[3] المجروحین: 2/193، تہذیب: 7/221-223، میزان: 2/196، تقریب التہذیب: 2/24
[4] فتح المغیث للسخاوی: 2/60
[5] الکفایۃ: 121
[6] کما فی شفاء الغلل مع التحفۃ: 4/388
[7] شرح نخبۃ الفکر: ص 52، ھدی الساری: ص 385
[8] الکفایۃ: ص 120، 125، فتح المغیث للسخاوی: 2/63، تدریب الراوی: 1/325، ارشاد الفحول: ص 51، فتح المغیث للعراقی: ص 163، التقریر والتحبیر: 2/241
[9] المدخل للحاکم: ص 16
[10] المحصول: 2/1 ص 275، التقیید والایضاح: ص 127، نہایۃ السؤال: 2/111، تدریب الراوی: 1/324، فتح المغیث للسخاوی: 2/63
[11] الاقتراح 1 ح: ص 336، فتح المغیث للعراقی: ص 163، فتح المغیث للسخاوی: 2/63