کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 1 - صفحہ 50
اس بحث میں راقم کی پوری کوشش رہی ہے کہ زیر قلم گزارشات کو صرف حدیث اور اس کے متعلقات تک ہی محدود رکھا جائے اور ہر باب پر تبصرہ کرنے سے قبل اس باب سے متعلق جملہ اصولی و بنیادی مباحث کو تعارف کے طور پر پیش کر دیا جائے کیونکہ ہر صاحب تحقیق جانتا ہے کہ بسا اوقات کسی رائے میں غلطی بہت دور بنیادوں میں واقع ہوتی ہے، لہٰذا جواب دیتے وقت ان اصل بنیادوں کو نظر انداز کر کے محض اجزاء کو زیر بحث لانے سے تنقید غیر حقیقی محسوس ہوتی ہے اور اس سے یہ غلط تأثر پیدا ہو جاتا ہے کہ تنقید سے مزید الجھاؤ پیدا ہو گیا ہے۔ ایسی صورت میں پختہ سے پختہ ذہن کا مالک شخص بھی بہ آسانی یہ یقین کرنے سے ہچکچاتا ہے کہ کسی پختہ کار صاحب علم و دانش کا فکری نظام ایسا غلط بھی ہو سکتا ہے؟ اس کے لئے راقم نے اپنی زیادہ تر تحقیق کو اقتباسات کی صورت ہی میں پیش کیا ہے تاکہ زیر بحث ہر معاملہ میں اہل فن کی تمام آراء قارئین کے سامنے آ جائیں۔ بعض جن مقامات پر اقوال ایک دوسرے سے متناقض اور مختلف ہیں، وہاں اصولی طور پر محاکمہ بھی کیا گیا ہے تاکہ قاری کسی شش و پنج میں پڑنے کی بجائے صحیح اور راجح قول کو اختیار کر سکے۔ مباحث کے اس اصولی و بنیادی تعارف کے بعد ان کے رد و قبول کے بارے میں اصلاحی صاحب کے مخصوص نقطہ نظر کی اصل و فرع کو متعین کر کے یکے بعد دیگرے ان کو زیر بحث لایا گیا ہے اور ان میں موجود بنیادی غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کہیں کہیں جناب حمید الدین فراہی، سید ابو الاعلی مودودی، تمنا عمادی، ڈاکٹر غلام جیلانی برق، ظفر احمد تھانوی، رحمت اللہ طارق، حبیب الرحمٰن صدیقی کاندھلوی، عبدالرشید نعمانی، عزیر احمد صدیقی، جاوید احمد غامدی اور خالد مسعود صاحبان وغیرہم کی بعض عبارتوں پر بھی ضمناً نقد و بحث آ گئی ہے – ان تمام ناموں کو دیکھ کر قطعاً چونکنے کی ضرورت نہیں کیونکہ علمی دنیا کی ایک یہ بھی ناقابل انکار حقیقت ہے کہ کوئی صاحب علم خواہ کتنے ہی اعلی و ارفع درجہ کا مالک ہو، ضروری نہیں کہ وہ اپنی ہر تحقیقی کاوش میں صحیح نتیجہ پر ہی پہنچ جائے، لہٰذا اس کی ہر رائے کو قبول یا رد کرنے میں ذہنی مرعوبیت، عجلت، تنظیمی پابندیوں، گروہی عصبیت اور جذباتی تعلقات کو نہیں بلکہ ٹھوس حقائق اور اس علم کے بنیادی اصول کو ہی معیار بنانا چاہیے۔ خود محترم اصلاحی صاحب نے اپنی اس تحقیقی کاوش میں غلطی کے امکان کو تسلیم کرتے ہوئے ’’دیباچہ‘‘ کے اختتام پر لکھا ہے:
’’آخر میں یہ بھی عرض کر دوں کہ اگر کسی صاحب علم نے کسی لغزش کی طرف توجہ دلائی تو اس کی اصلاح کر دوں گا اور توجہ دلانے کا شکریہ بھی ادا کروں گا۔ البتہ ان لوگوں سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے جو محض لکیر کے فقیر ہیں، حدیث کے لئے عصبیت تو بہت ظاہر کرتے ہیں، لیکن اس کے لئے کوئی محنت نہیں کی ہے۔ بس اپنے استادوں سے جو باتیں سن رکھی ہیں یا ان کے گروہ کے لوگ جن باتوں پر لڑتے اور مرتے ہیں وہی ان کا سرمایہ ہے۔ اس طرح کے لوگ جو تنقیدیں کرتے ہیں ان کے پڑھنے اور ان کے جواب لکھنے کی میرے پاس فرصت نہیں ہے۔‘‘ [1]
[1] دیباچہ مبادئ تدبر حدیث، ص: 17