کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 1 - صفحہ 47
خلاف پا کر اس قدر ’’متوحش‘‘ ہو گئے ہیں کہ اس فن کے جن محاسن و لطائف کا غیر مسلم قوموں تک کو اعتراف ہے آں موصوف ان کے متعلق بھی تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے ہیں۔ علم حدیث کا ادنیٰ سے ادنیٰ طالب علم بھی اس حقیقت سے نا آشنا نہ ہو گا کہ محدثین کرام نے احادیث کے ذخائر جمع کر کے انہیں دین کے ماخذ کی حیثیت سے تمام خلق کے سامنے بس یونہی پیش نہیں کر دیا تھا بلکہ حتی الوسع ان کی چھان بین اور چھانٹ پھٹک کا اہتمام بھی فرمایا تھا، فجزاهم اللّٰه أحسن الجزاء۔ ان ائمہ کے پاس اس اہم دینی فریضہ کو بحسن و خوبی انجام دینے کے لیے ایسے واضح، عظیم الشان اور فقید المثال اصول موجود تھے کہ کوئی بھی صاحب عقل و انصاف، نقد حدیث کے لئے ان کو معیار اور کسوٹی ماننے سے انکار نہیں کر سکتا – لیکن ان حقائق کے برخلاف ’’دیباچہ‘‘ میں اصلاحی صاحب نے قارئین کو یہ غلط تأثر دینا چاہا ہے کہ ماضی میں پوری امت ذخیرہ احادیث کی چھان بین سے چشم پوشی کرتی رہی ہے، کیونکہ ان کے پاس اس اہم مقصد کے لئے ایسی کوئی کسوٹی موجود نہ تھی کہ جسے ’’کسوٹی تسلیم کرنے سے کوئی صاحب انصاف انکار نہ کر سکے۔‘‘ محترم اصلاحی صاحب کے کلام سے اس دعویٰ کی بو آتی ہے کہ آں موصوف نے کتاب ’’مبادئ تدبر حدیث‘‘ لکھ کر گویا امت کو وہ کسوٹی فراہم کر دی ہے جس کی کہ صدیوں سے ضرورت محسوس کی جاتی تھی، چنانچہ لکھتے ہیں: ’’میں نے اسی خدمت کے لئے یہ مقدمہ لکھا ہے الخ۔‘‘ [1] مرتب کتاب جناب ماجد خاور صاحب بھی کتاب کی افادیت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اس خدمت کو حدیث کے حقیقی طالب علم ان شاء اللہ رہنما اور نافع پائیں گے، جو حدیث کو صرف دورے کی چیز نہیں سمجھتے، بلکہ تدبر کو تقاضائے دین مانتے ہیں۔‘‘ [2] لیکن اس بارے میں راقم کے ذاتی تأثرات یہ ہیں کہ کتاب ’’مبادئ تدبر حدیث‘‘ میں ایسی کوئی علمی اور فنی خوبی عیاں نہیں ہے جو کہ قدیم محدثین اور اصولیین پر آں موصوف کا تفوق ثابت کر سکے، اور نہ ہی اصول حدیث کے ضمن میں ان کی مطلوبہ تبدیلی کا اصلاح کا طریقہ کار واضح ہے۔ بعض جگہ بلاوجہ و بلا ضرورت مفروضوں پر انتہائی زور قلم صرف کیا گیا ہے۔ اسی طرح بعض مقامات پر اصل اور بنیادی چیزوں کو نظر انداز کر کے منتشر اور متضاد جزئیات کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ بعض جگہ محترم اصلاحی صاحب نے کسی دینی نص کا اپنے کسی فلسفہ کی رو سے ایک خاص مطلب طے کر لیا ہوتا ہے اور وہ اسے اس قدر بھرپور اعتماد کے ساتھ پیش کرتے نظر آتے ہیں کہ اگر ان کے سامنے دوسری قطعی نصوص پیش کی جائیں، جو ان کی طے کردہ مفہوم و معانی کی نقیض ہوں، تو بھی ان کے اعتماد میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں آئے گی اور وہ تمام استدلال کو قبول کرنے لئے محض اس لئے آمادہ نہ ہوں گے کہ وہ دوسری نصوص ان کے محبوب فلسفے
[1] دیباچہ مبادئ تدبر حدیث، ص: 17 [2] پیش لفظ مبادئ تدبر حدیث، ص: 12