کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 1 - صفحہ 44
یعنی ’’جو شخص حق سے روگردانی کرنا چاہتا ہے وہ علماء کے اقوال میں سے شاذ قول کو اختیار کرتا ہے اور ان کی غلطیوں کو حجت بنا لیتا ہے، اس کے برعکس جو شخص حق کا طلبگار ہوتا ہے وہ علماء کی جماعت کے متفق علیہ اور مشہور قول کو ہی اختیار کرتا ہے اور جمہور کا ساتھ دیتا ہے۔ یہ وہ عظیم الشان اصول ہیں جن کی بناء پر کسی متبع یا مبتدع شخص کو بہ آسانی پہچانا جا سکتا ہے۔‘‘ اسی طرح ابراہیم بن ابی عبلہ رحمہ اللہ کا مشہور قول ہے: ’’من حمل شاذ العلماء حمل شراً كثرا۔‘‘ [1] ’’دیباچہ‘‘ کے ایک مقام پر جناب اصلاحی صاحب نہایت درد مندانہ طور پر فرماتے ہیں: ’’ایک عرصہ دراز سے میری یہ رائے ہے کہ اس دور میں مذہب کو جس چیلنج سے سابقہ ہے اس کا جواب دینا ہمارے علماء حضرات کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس کے لئے ایسے لوگوں کو میدان میں اترنا پڑے گا جو جدید فکر و فلسفہ کے زہر اور ساتھ ہی قرآن و حدیث کے تریاق سے اچھی طرح واقف ہوں۔ لیکن اس طرح کے لوگ ملیں گے کہاں؟ ہمارے ملک میں اشخاص تیار کرنے والے جو ادارے ہیں، قدیم ہوں یا جدید، اس مقصد کے لئے بالکل بانجھ ہیں۔ اس کے لئے سب سے مقدم ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم کی دو عملی ختم کر کے اس کے اندر وحدت پیدا کی جائے، اور جدید و قدیم، دونوں کو سمو کر ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں مذہب صرف بطور تبرک شامل نہ ہو بلکہ اس کے اندر قرآن حکیم کا پورا فلسفہ روح کی طرح جاری و ساری ہو۔ یہ کام ظاہر ہے کہ افراد کے کرنے کا نہیں، بلکہ حکومت کے کرنے کا ہے۔ ہماشما تو زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہیں کہ انہی ناکارہ اداروں سے نکلے ہوئے لوگوں میں سے اگر کچھ سعید روحیں اپنی طرف ملتفت پائیں تو تطہیر اور تزکیہ کے بعد ان کو اس قابل بنائیں کہ وہ قرآنی فکر و فلسفہ کے حامل بن سکیں۔ چنانچہ اسی مقصد کو سامنے رکھ کر میں نے ایک تو قرآن مجید کا علمی و تحقیقی درس شروع کیا اور ساتھ ایک ایسی تفسیر لکھنے کا ارادہ کیا جو قرآن کی زبان، اس کے نظام اور اس کے اپنے نظائر و شواہد پر مبنی ہوتا کہ اس کی حکمت اور اس کا فلسفہ پڑھنے والوں پر واضح ہو اور دلوں میں اطمینان پیدا کر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ دین کے دوسرے ماخذ – حدیث شریف – کا بھی تحقیقی درس شروع کیا۔ پہلے کچھ مدت تک کالجوں کے اسلامی ذہنوں رکھنے والے طلبہ کو پوری مسلم شریف پڑھائی، پھر اس کے بعد پوری مؤطا امام مالک کا نہایت اہتمام سے درس دیا۔ مؤطا شریف کے ختم ہونے کے بعد اب کچھ مزید اہتمام کے ساتھ بخاری شریف کا درس شروع کیا ہے جس میں ذہین طلبہ اور شائقین علم کی ایک اچھی تعداد پابندی سے شریک ہو رہی ہے۔‘‘ [2] یہ بات درست ہے کہ جناب اصلاحی صاحب نے قرآن حکیم کو اپنی فکر کا مرکز و محور بنایا ہے اور اس پر غور و تدبر کے لئے بیشتر انہیں اصولوں کی پیروی کی ہے جو ان کے استاذ و مرشد جناب حمید الدین فراہی صاحب نے وضع
[1] الكفاية في علم الرواية للخطيب، ص: 140 [2] دیباچہ مبادئ تدبر حدیث، ص: 15-16