کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 1 - صفحہ 43
عصر جدید میں فن علم حدیث کی ان کمزوریوں کو محسوس کر کے انہیں دور کرنے، اس فن کو ’’ترقی‘‘ دے کر اوج کمال تک پہنچانے اور بقول مرتب کتاب ’’اس عظیم علمی تحریک کو آگے بڑھانے‘‘ کا بیڑا غالباً اصلاحی صاحب نے اٹھایا ہے۔ گویا آں موصوف کی زیر تبصرہ کتاب ’’مبادئ تدبر حدیث‘‘ نقد حدیث کے مبادئ و اصول کے تتمہ و تکملہ سے عبارت ہے، حالانکہ خود اصلاحی صاحب نے اس قسم کا کوئی دعویٰ نہیں کیا ہے، بلکہ اپنی تمام تر کوشش و تحقیق کو ’’ائمہ حدیث کی مستند کتابوں سے ماخوذ‘‘ ہی بتایا ہے، چنانچہ ’’دیباچہ‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’اس مضمون میں وہ اصول و مبادی میں نے بیان کر دئیے ہیں جو احادیث کو سمجھنے اور ان کے صحت و سقیم کا فیصلہ کرنے کے لئے میں ضروری سمجھتا ہوں اور جن کو میں نے ملحوظ رکھا ہے۔ ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جس میں کوئی مجھے منفرد قرار دے سکے۔ یہ ساری باتیں ہمارے ائمہ حدیث کی مستند کتابوں سے ماخوذ ہیں اور یہ ایسی معقول اور فطری ہیں کہ کوئی عاقل ان کا انکار نہیں کر سکتا۔‘‘[1] پس ثابت ہوا کہ جناب اصلاحی صاحب نے اپنے ان لیکچرز میں جو کچھ بیان کیا وہ نہ تو کوئی چیز ہے اور نہ ہی اس کے ذریعہ فن اصول حدیث کو ائمہ حدیث کے قائم کردہ اصول نیز ’’مزید فطری اصولوں کی رہنمائی میں مزید ترقی دی‘‘ گئی ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اصلاحی صاحب نے ائمہ حدیث کی کتابوں میں سے اپنی چند دل پسند چیزوں کو ترجیحاً اختیار کیا ہے، بس – جہاں تک آں موصوف کا ان چند منتخب اصول و مبادئ کو ’’احادیث کے سمجھنے اور ان کے صحت و سقم کا فیصلہ کرنے کے لئے ضروری‘‘ سمجھنے یا انہیں ترجیحاً اختیار کرنے اور ملحوظ خاطر رکھنے کا تعلق ہے تو راقم اس بارے میں صرف یہ کہنے پر ہی اکتفا کرے گا کہ اصلاحی صاحب نے اپنے ان دس لیکچرز میں نقد حدیث کے متعلق جن نقاط کی طرف توجہ دلائی ہے، ائمہ حدیث کی نظر ان نقاط سے بہت آگے تھی۔ اگر ان چند منتخب اصول کے ’’معقول و فطری‘‘ ہونے پر بحث کی جائے تو بات کہیں سے کہیں پہنچ جائے گی، لہٰذا ہم اس سے صرف نظر کرتے ہیں، البتہ آں موصوف کا یہ کہنا قطعاً درست ہے کہ ان منتخب اصولوں ’’میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جس میں کوئی‘‘ آں موصوف کو ’’منفرد قرار دے سکے‘‘، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہر کج نظر اپنی موافقت میں کوئی نہ کوئی سہارا تو تلاش کر ہی لیتا ہے، مگر ایسے سہارے کی بنیاد پر کہ کوئی شاذ قول اس کی تائید میں موجود ہے، امت کے متفق علیہ مسائل سے اعراض و نفور کو کوئی ذی عقل درست نہیں کہہ سکتا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے اس بارے میں کیا خوب فرمایا ہے: ’’إن الذي يريد الشذوذ عن الحق يتبع الشاذ من أقوال العلماء و يتعلق بزلاتهم والذي يؤم الحق في نفسه يتبع المشهور من قول جماعتهم و ينقلب مع جمهورهم، فهما آيتان بينتان يستدل بهما علي اتباع الرجل و علي ابتداعه‘‘ [2]
[1] دیباچہ مبادئ تدبر حدیث، ص: 16-17 [2] الرد علي الجهميه، ص 68