کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 1 - صفحہ 41
’’حضرت الاستاذ نے ادارہ تدبر قرآن و حدیث کے زیر اہتمام ’’مبادئ تدبر حدیث‘‘ کے موضوع پر متعدد بصیرت افروز لیکچرز دئیے، جنہیں ریکارڈ کر لیا گیا تھا۔ ان مباحث کو، مستقل افادہ کے خیال سے، راقم الحروف نے مولانا محترم کے نوٹس کی مدد سے ٹیپ سے مضامین کی صورت میں مرتب کر دیا – یہ مضامین قبل ازیں ادارہ تدبر قرآن و حدیث کے ترجمان، تدبر اور ماہنامہ اشراق، لاہور میں شائع ہو چکے ہیں۔‘‘ [1] ’’اصول حدیث‘‘ کے موضوع پر ان لیکچرز کے دینے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ کچھ عرصہ قبل جناب اصلاحی صاحب نے کالجوں کے اسلامی ذہن رکھنے والے طلبہ کو اپنے مخصوص تحقیقی انداز پر صحیح مسلم اور مؤطا امام مالک کا درس دیا تھا۔ یہ لیکچرز دراصل انہی دروس کے لئے ایک مقدمہ کی حیثیت رکھتے ہیں، چنانچہ خود اصلاحی صاحب موصوف ’’دیباچہ‘‘ کے تحت تحریر فرماتے ہیں: ’’حدیث کا کام ابھی درس ہی تک محدود ہے۔ اب بعض رفقاء کوشش کر رہے ہیں کہ مؤطا شریف کے اسباق ٹیپ سے اتار کر کتابی صورت میں شائع کئے جائیں۔ خدا نے چاہا تو یہ کام جلد پورا ہو جائے گا۔ اس کتاب کے لئے میں نے ایک مقدمہ لیکچرز کی شکل میں ریکارڈ کرا دیا تھا جو ہمارے رفیق عزیز، ماجد خاور سلمہ، نے ٹیپ سے اتار کر کتابی صورت میں جمع کر لیا ہے۔‘‘ [2] اصلاحی صاحب کے ان لیکچرز کو اگرچہ جناب ماجد خاور صاحب نے مرتب کیا ہے لیکن محترم اصلاحی صاحب اور ان کے بعض دوسرے تلامذہ نے ان پر نظر ثانی فرما کر جلد مندرجات کی صحت اور آں موصوف کی طرف ان کی نسبت کی توثیق فرما دی ہے، جیسا کہ جناب ماجد خاور صاحب نے ’’پیش لفظ‘‘ میں بیان کیا ہے، فرماتے ہیں: ’’حضرت الاستاذ نے اشاعت سے قبل ان پر نظرثانی بھی فرما دی ہے۔‘‘ [3] اور ’’اس کتاب کی ترتیب کے سلسلہ میں برادر محترم خالد مسعود صاحب کی رہنمائی اور نظرثانی کے لئے ممنون ہوں۔‘‘ [4] خود محترم اصلاحی صاحب بھی ’’دیباچہ‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’اگرچہ تحریر و تقریر میں بڑا فرق ہوا کرتا ہے اور ٹیپ سے کوئی علمی چیز اتارنا اور اس کو اشاعت کے لئے موزوں بنانا کوئی سہل کام نہیں ہے، لیکن میں نے اس پر ایک نظر ڈال کر یہ اندازہ کر لیا ہے کہ ترتیب بیان، ایجاز و اطناب اور حسن عبارت کے پہلو سے تو ممکن ہے پڑھنے والے اس میں کہیں کچھ ضعف یا خلا محسوس کریں، لیکن جہاں
[1] پیش لفظ مبادئ تدبر حدیث، ص: 12 [2] دیباچہ مبادئ تدبر حدیث، ص: 16 [3] پیش لفظ مبادئ تدبر حدیث، ص: 12 [4] پیش لفظ مبادئ تدبر حدیث، ص: 12