کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 1 - صفحہ 39
و ہند میں فکر فراہی کے نام پر بھی احادیث میں تشکیک پیدا کرنے کی مہم زور و شور سے جاری ہے اور احادیث آحاد کے عنوان پر بھی صحیح احادیث کو رد کرنے کا سلسلہ ایک عرصہ سے چلا آ رہا ہے۔ یہ موضوع اور اس سے متعلقہ مذموم کوششیں بھی ایک مستقل کتاب کی متقاضی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس میدان میں کام کرنے اور اس موضوع پر خاص مطالعہ و محنت کرنے کا موقع مہیا فرمایا ہے تو فکر فراہی کے بھی بخیے ادھیڑنے اور حجیت آحاد پر بھی لکھنے کی بڑی ضرورت ہے۔ اپنے راہوایہ تحقیق کا رخ اس طرف بھی موڑیں اور ان کا دام ہم رنگ زمین سے لوگوں کو بچائیں، وفقكم اللّٰه و إيانا لما يحب و يرضي۔‘‘ [1]
یہ وہ بعض عوامل تھے جن کے زیر اثر راقم نے محترم اصلاحی صاحب کے نظریات پر تحقیق کو ترجیح دی۔ موضوع بحث کے انتخاب کے بعد عنوان کی تعیین کا مرحلہ پیش آیا۔ بہت سے عنوانات ذہن میں آئے لیکن راقم نے ان میں سے ابتداء ’’اصلاحی اسلوب تدبر حدیث‘‘ کو ہی ترجیح دی، کیونکہ اس میں جناب امین احسن اصلاحی صاحب کے نام کے ساتھ عنوان کی مناسبت بھی پائی جاتی ہے اور درحقیقت یہ تدبر حدیث کے ضمن میں ایک مخصوص مکتب فکر کے نظریات، اسالیب و مبادیات سے متعلق ایک پرخلوص ’’اصلاحی کوشش‘‘ ہی تو ہے – لیکن بعد میں بعض مخلصین کے ناصحانہ مشوروں کے پیش نظر اس کا عنوان بدل کر ’’فتنہ انکار حدیث کا ایک نیا روپ‘‘ رکھ دیا گیا کیونکہ اول الذکر عنوان سے اس بحث کا تعارف صحیح طریقہ پر نہیں ہو پاتا تھا۔ جب ’’خطۃ البحث‘‘ تیار ہو چکا اور عملاً اس میدان میں قدم رکھا گیا تو طرح طرح کی دشواریاں پیش آئیں، جن میں سب سے اہم اور مشکل ترین مرحلہ یہاں اصلاحی صاحب کی مستقل تصانیف اور دیگر تحریروں کی دستیابی کا تھا۔ چونکہ دیار عرب میں برصغیر کے بیشتر علماء و مصنفین کی تصانیف نہ ہو تو معروف ہوتی ہیں اور نہ دستیاب، لہٰذا اصل مراجع و مصادر کے حصول کے لئے پہلے تو پاکستان کے بعض معروف کتب فروشوں کی طرف رجوع کیا، جن میں جناب حمید الدین فراہی اور امین احسن اصلاحی صاحبان کی جملہ تصانیف شائع کرنے والا ادارہ، فاران فاؤنڈیشن لاہور بھی شامل ہے، لیکن افسوس کہ محترم اصلاحی صاحب کی کوئی تصنیف قیمتاً بھی حاصل نہ ہو سکی۔ پھر پاکستان سالانہ تعطیلات پر جانے والے بعض احباب سے درخواست کی گئی کہ فلاں فلاں کتب واپسی پر ساتھ لیتے آئیں لیکن تقریباً نصف سال کی مسلسل کوشش کے بعد بھی اصلاحی صاحب کی صرف چند تحریروں (یعنی ’’مبادئ تدبر قرآن‘‘ اور ’’تزکیہ نفس‘‘) کے سوا کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ پھر چونکہ ان موصولہ کتب کا اصل موضوع بھی علم حدیث نہیں تھا، لہٰذا علم حدیث کے متعلق آں موصوف کے مخصوص افکار تک خاطر خواہ رسائی نہیں ہو سکی، نتیجتاً رفتہ رفتہ اس ابتدائی مرحلہ ہی میں راقم کی ہمت پست پڑ گئی، مگر ایک آخری کوشش سمجھتے ہوئے راقم نے اس سلسلہ میں جب اپنی مشکلات کا تذکرہ جناب حافظ صلاح الدین یوسف صاحب سے کیا تو آں محترم نے کمال عنایت سے کام
[1] الاعتصام لاہور ج 43 عدد شمارہ 25 ص: 21 مجریہ 21 جون 1991ء