کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 1 - صفحہ 38
میں ایک حقیر طالب علم ہوں، شاہوں کا یہ تاج میں اپنے سر پر رکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتا، میری آرزو یہ ہے کہ میں آپ سے حدیث سمجھنے کا سلیقہ سیکھوں، یہ جواب سن کر مولانا رحمہ اللہ نے کچھ دیر توقف کے بعد فرمایا کہ: ’’اچھی بات ہے، آپ کی خواہش یہی ہے تو جو کتاب چاہیں وہ میں پڑھا دوں گا۔‘‘ میں نے کہا: آپ ترمذی کے شارح ہیں، یہی کتاب مجھے پڑھا دیجئے۔ یہ درخواست مولانا رحمہ اللہ نے منظور فرما لی اور مزید کرم یہ فرمایا کہ شرح ترمذی کا ایک نسخہ اپنے دستخط سے مزین فرما کر مجھے عنایت کیا۔
دوسرے دن سے ترمذی شریف کا درس شروع ہو گیا۔ رمضان شریف کا مبارک مہینہ تھا۔ میرے گاؤں سے مبارکپور کا فاصلہ دو میل تھا۔ روزانہ پیدل چل کر صبح کو مولانا رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور شام کو پیدل ہی گھر واپس آتا۔ رات میں مولانا کی شرح ترمذی، تحفۃ الاحوذی کی روشنی میں ترمذی کا مطالعہ کرتا۔ دن میں دو ڈھائی گھنٹے میں قراءت پر محنت کرتا اور مولانا رحمہ اللہ اس کے سماع پر۔ میں تو تھک کر چور ہو جاتا، لیکن مولانا رحمہ اللہ نے ضعف اور پیری کے باوجود کبھی کسی تھکان کی شکایت نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ ان کی تربت ٹھنڈی رکھے اور آخرت میں ان کے مراتب بلند کرے۔
میں نے یہ سرگزشت مولانا رحمہ اللہ سے اپنی نسبت کے اظہار کے لئے نہیں سنائی ہے، بلکہ اس فن شریف سے اپنے دیرینہ قلبی تعلق کو ظاہر کرنا چاہتا ہوں۔ یہ 1931ء کے اوائل کی بات ہے۔ اس پر ایک طویل مدت گزر چکی ہے الخ۔‘‘ [1]
محترم اصلاحی صاحب کی جانب سے بار بار اس طرح کی تحریریں سامنے آنے سے بہت سے اہل دانش و بینش اس فحش غلط فہمی کا شکار ہو چکے ہیں کہ جس طرح اصلاحی صاحب تفسیر کے معاملہ میں شیخ حمید الدین فراہی صاحب کی مخصوص فکر کے ترجمان اور شارح ہیں اسی طرح علم حدیث میں بھی علامہ عبدالرحمٰن مبارکپوری رحمہ اللہ کی افکار و آراء کے عکاس ہیں۔ جب راقم الحروف نے یہاں الدمام، الظہران، الخبر، الریاض، مکۃ المکرّمہ اور جدہ وغیرہ میں منعقد ہونے والی مختلف علمی مجالس میں یہ بات سنی تو حیرت زدہ رہ گیا، کئی بار ارادہ کیا کہ اس بارے میں ایک مختصر وضاحتی مضمون ترتیب دے کر کسی مؤقر رسالہ میں طبع کرا دوں، لیکن شاید اللہ عزوجل نے اس سے بڑھ کر کام لینا مقدر کر رکھا تھا۔
3۔ محترم شیخ الجامعہ حافظ عبدالرحمٰن مدنی، حفظہ اللہ، کی تحریک بذات خود اس تحقیق کا محرک تھی لیکن اسی دوران جمیعۃ اہلحدیث پاکستان کے مؤقر ترجمان (ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ لاہور) کے سابق مدیر اعلی اور وفاقی شرعی عدالت پاکستان کے مشیر جناب حافظ صلاح الدین یوسف صاحب، حفظہ اللہ تعالیٰ، نے بھی راقم کی کتاب ’’ضعیف احادیث کی معرفت اور ان کی شرعی حیثیت‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے راقم سے مطالبہ فرمایا کہ:
’’ہم فاضل مصنف سے ان کی موضوع سے خاص مناسبت اور محنت کے پیش نظر عرض کریں گے کہ پاک
[1] مبادئ تدبر حدیث، ص: 13-14