کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 1 - صفحہ 37
نظریات کے دفاع کے لئے کئی بار ارادہ کیا کہ جناب اصلاحی صاحب کے نظریات کا ایک معروضی جائزہ لوں، لیکن جہاں دوسرے مشاغل کی کثرت نے مہلت نہ دی وہیں یہ خیال بھی دامن گیر رہا کہ کہیں آں موصوف کے ادب و احترام کے خلاف نوک قلم سے کوئی ناروا فقرہ نہ نکل جائے، چنانچہ خاموش رہا لیکن حق یہ ہے کہ وہ دیرینہ خواہش اندر ہی اندر پروان چڑھتی رہی۔
2۔ جس طرح اکثر لوگ جناب اصلاحی صاحب کو فن تفسیر میں جناب حمید الدین فراہی صاحب کا مایہ ناز شاگرد سمجھتے ہیں اسی طرح آں موصوف کے متعلق یہ بات بھی معروف ہے کہ آپ کو علم حدیث میں جدی محترم محدث شہیر علامہ عبدالرحمٰن مبارکپوری رحمہ اللہ (صاحب ’’تحفۃ الاحوذی‘‘ شرح جامع الترمذی) سے باقاعدہ شرف تلمذ حاصل ہے۔ وقتاً فوقتاً اس چیز کا اظہار خود اصلاحی صاحب یا ان کے تلامذہ کی جانب سے ہوتا رہا ہے، مثال کے طور پر ہفت روزہ مجلّہ ’’المنیر‘‘[1]اور ماہنامہ ’’اشراق‘‘[2]لاہور وغیرہ میں علامہ مبارکپوری سے آں موصوف کے روابط، شرف تلمذ اور کیفیت درس پر کافی کچھ شائع ہو چکا ہے۔
زیر تبصرہ کتاب ’’مبارک تدبر حدیث‘‘ کے دیباچہ میں جناب اصلاحی صاحب نے علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ سے اپنے تعلق کا نقشہ کچھ یوں کھینچا ہے:
’’اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ مجھے ابتداء ہی سے قرآن شریف کی طرح حدیث شریف سے بھی قلبی لگاؤ رہا ہے۔ چنانچہ مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد میرے دل میں آرزو پیدا ہوئی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک امام فن سے قرآن مجید سیکھنے اور سمجھنے کی توفیق بخشی اسی طرح کسی صاحب فن سے حدیث شریف کے سیکھنے اور سمجھنے کا بھی انتظام فرما دے۔ اس آرزو کی تکمیل کا سامان رب کریم نے یوں فرما دیا کہ اسی زمانے میں حدیث کے جید عالم، محدث مبارکپوری مولانا عبدالرحمٰن رحمہ اللہ اپنے تعلیمی و تدریسی مشاغل سے فارغ ہو کر اپنے وطن، مبارکپور میں آ کر گوشہ گیر ہو گئے۔ یہ قصبہ میرے آبائی وطن سے دو میل کے فاصلہ پر ہے۔ میں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور ان کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست کی کہ وہ مجھے کچھ دن اپنے فیض صحبت سے مستفید ہونے اور حدیث شریف پڑھنے کا موقع عنایت فرمائیں۔
مولانا رحمہ اللہ کو شاید یہ علم تھا کہ میں مدرسۃ الاصلاح کا فارغ التحصیل اور مولانا فراہی رحمہ اللہ کے شاگردوں میں سے ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ: ’’آپ تو بہت کچھ پڑھ چکے ہیں، اب مزید پڑھنے کی کیا ضرورت ہے‘‘؟ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ: ’’اگر آپ چاہیں تو اپنی سند میں آپ کو دے دوں گا۔‘‘ مولانا رحمہ اللہ کی طرف سے یہ میری بڑی حوصلہ افزائی تھی، لیکن میرا مقصد حدیث شریف کا علم حاصل کرنا تھا نہ کہ صرف سند حاصل کرنا۔ میں نے ادب سے گزارش کی کہ
[1] مجریہ 14 ذی الحجہ 1374ھ
[2] ج 2 عدد 10 ص: 49-51 مجریہ اکتوبر 1990ء