کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 1 - صفحہ 368
یہی صورت چوری پر قطع ید کے حکم کے عموم کی ہے۔ اس کا عموم تو بظاہر یہی ہے کہ ہر عمر، ہر حیثیت، ہر معیار عقل و فہم کی ہر چوری پر یہ سزا نافذ ہو۔ لیکن اس عموم کے اندر یہ مضمر ہے کہ چور عاقل و بالغ ہو، اس کی دماغی حالت درست ہو، وہ مبتلائے اضطرار نہ ہو، شئ مسروقہ کی مقدار اتنی ہو کہ اس پر چوری کا اطلاق ہو سکے اور فعل کی نوعیت ایسی ہو کہ اس میں تعمد پا جاتا ہو، یہ ساری باتیں اس عموم کے اندر روز اول سے مضمر ہیں جن کو روایات اور فقہاء کے اجتہادات نے واضح کر دیا۔‘‘ [1] 5- ص 362 سطر 5 ’’—مستحق بناتی ہے‘‘ (سے آگے ملاحظہ فرمائیں) فرماتے ہیں: فقہاء مخصص اور مخصص میں اقتران کی جو شرط لگاتے ہیں اس کا مطلب یہی ہے کہ اس کے قرائن و آثار روز اول سے مخصص کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ اگر کوئی چیز اس طرح کے کسی قرینہ کے بغیر کسی حکم پر وارد ہو جائے تو وہ مخصص نہیں، بلکہ وہ ناسخ کہلائے گی اور قرآن میں نسخ کے لئے جو شرط ہے۔ وہ اوپر وضاحت سے بیان ہو چکی ہے۔‘‘ [2] •••
[1] مبادئ تدبر حدیث، ص: 43، 45 [2] نفس مصدر، ص: 46