کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 1 - صفحہ 367
تخصیص سے آیت کا صحیح مفہوم معین ہو گیا اور اس کے الفاظ کے عموم سے جو التباس پیدا ہو سکتا تھا اس کی راہ مسدود ہو گئی۔ اس کو تخصیص کہتے ہیں۔‘‘ [1] 4- ص 347 سطر 12 ’’—ایک امر اجتہادی کی ہو گی‘‘ (سے آگے ملاحظہ فرمائیں) لکھتے ہیں: ’’یہ امر یہاں واضح رہے کہ ایک خلیفہ راشد کے اجتہاد کی دین میں بڑی اہمیت ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر عموم کے لئے کچھ فطری قیدیں اور تخصیصات ہوتی ہیں جو اس عموم کی مقترن اور ہمزاد ہوتی ہیں، مثلا آیت توریث اپنے حکم میں عام ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: [يُوصِيكُمُ اللّٰه فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللّٰه ۗ إِنَّ اللّٰه كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا](النساء- 4: 11) اللہ تمہاری اولاد کے باب میں تمہیں ہدایت دیتا ہے کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔ اگر لڑکیاں دو سے زائد ہیں تو ان کے لئے ترکے کا دو تہائی ہے اور اگر اکیلی ہے تو اس کے لئے آدھا ہے اور میت کے ماں باپ ان میں سے ہر ایک کے لئے اس کا چھٹا حصہ ہے۔ جو مورث نے چھوڑا، اگر میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اس کے اولاد نہ ہو اور اس کے وارث ماں باپ ہی ہوں تو اس کی ماں کا حصہ ایک تہائی اور اگر اس کے بھائی بہنیں ہوں تو اس کی ماں کے لئے چھٹا حصہ ہے۔ یہ حصے اس وصیت اس کی تعمیل یا ادائے قرض کے بعد ہیں جو وہ کر جاتا ہے۔ تم اپنے باپوں اور بیٹوں کے متعلق یہ نہیں جان سکتے کہ تمہارے لئے سب سے زیادہ نافع کون ہو گا۔ یہ اللہ کا ٹھہرایا ہوا فریضہ ہے۔ بےشک اللہ ہی علم و حکمت والا ہے۔ آیت کے حکم کی عمومیت کا ظاہر تقاضا تو یہ ہے کہ ہر باپ اپنے بیٹے کا اور ہر بیٹا اپنے باپ کا وارث ہو۔ لیکن اس کے اندر یہ تخصیص مضمر ہے کہ اختلاف دین کی صورت میں یہ عموم باقی نہیں رہے گا بلکہ یہ چیز توارث میں مانع ہو جائے گی۔ اس مضمر حقیقت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں کھول دیا: ’’عَنْ أُسَامَة بِنْ زَيْد أَنَّ النَّبِي صلي اللّٰه عليه وسلم قَالَ: لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ‘‘ (صحيح البخاري: كتاب الفرائض، باب لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ وَإِذَا أَسْلم قَبل أَن يقسم الْمِيْرَاث فَلَا مِيْرَاث له) حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کافر اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا۔
[1] نفس مصدر، ص: 41، 43