کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 1 - صفحہ 366
کر سکتے اور کسی کو ادنیٰ و اعلیٰ نہیں قرار دے سکتے – دونوں دین کے قیام کے لئے یکساں ضروری ہیں۔‘‘ [1] 2- ص 333 سطر 17 ’’—مقابل میں لا کر رکھ دی گئیں۔‘‘ (سے آگے ملاحظہ فرمائیں) لکھتے ہیں: ’’سوچنے کی بات ہے کہ اگر قرآن نہ ہو تو سنت کیا کرے گی؟ اس کی عمارت کس چیز پر استوار ہو گی؟ سنت کی اساس تو بہرحال قرآن مجید ہی ہے۔ اس کے بغیر سنت کھڑی نہیں ہو سکتی۔ واقعہ یہ ہے کہ ان دونوں میں روح اور قالب کا تعلق ہے۔ ان میں اجمال و تفصیل کا تعلق ہے۔ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہیں۔ دونوں یک جان دو قالب ہیں اور ہم دونوں کے یکساں محتاج ہیں۔‘‘ [2] 3- ص 346 سطر 5 ’’—دیا جائے۔‘‘ (سے آگے ملاحظہ فرمائیں) لکھتے ہیں: ’’اس کو مثال سے سمجھ لیجئے: پہلی تخصیص کی مثال یہ ہے کہ چوری پر قطع ید کے عام حکم کی تخصیص، مثلاً ربع دینار والی روایت سے کی گئی۔ یعنی قطع ید کا حکم صرف ان چوروں پر نافذ ہو گا جنہوں نے کم از کم ربع دینار کی چوری کی ہو۔ متعلقہ آیت یہ ہے: [وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللَّـهِ](المائدۃ-5: 38) اور چور مرد اور چور عورت، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو، ان کے کئے کی پاداش اور اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا کے طور پر۔ اس کو تخصیص کرنے والی روایت یہ ہے: ’’عَنْ عَائِشَة عَنِ النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم قَالَ: لَا تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ إلَّا في رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا ‘‘ (سنن ابی داؤد، کتاب الحدود، باب في ما يقطع فيه السارق) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چور کا ہاتھ ایک چوتھائی دینار یا زیادہ مالیت کی چوری پر کاٹا جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قطع ید کا حکم آیت میں تو عام ہے، لیکن حدیث نے اس کو یوں کر دیا کہ اس پر ربع دینار کی قید عائد کر دی۔ یعنی قطع ید کا حکم صرف ان چوروں پر نافذ ہو گا جنہوں نے کم از کم ربع دینار کی چوری کی ہو۔ یہ تخصیص لفظ ’’سارق‘‘ کے صحیح مفہوم کی، جو آیت سے مراد ہے، وضاحت ہے۔ اس لئے کہ ’’سارق‘‘ ہر چھوٹی موٹی چیز اٹھا لینے والے کو نہیں کہتے، بلکہ محفوظ مال سے کسی ایسی چیز کی چوری کو کہتے ہیں جس کی کچھ قدر و قیمت ہو۔ یہ گویا لفظ ’’سارق‘‘ کے مفہوم کے مضمرات میں سے ہے جس کو حدیث نے واضح کر دیا۔ اس
[1] مبادئ تدبر حدیث، ص: 33-35 [2] نفس مصدر، ص: 38