کتاب: انکارِحدیث کا نیا روپ جلد 1 - صفحہ 365
یہی حال دیگر عبادات، معاشی معاملات، معاشرتی مسائل، سیاسی امور اور حدود و تعزیرات وغیرہ کا بھی ہے۔ شریعت کے احکام کو آپ قرآن کے فریم میں سمجھ سکتے ہیں، لیکن اس خاکے میں رنگ بھرنا سنت کے ذریعے سے ہوتا ہے۔
مفرد احکام کی نوعیت قدرے مختلف ہے۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ہر حکم کے فہم کے لئے سنت کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ اگر کسی پہلو سے ایک حکم کی توضیح کی ضرورت پڑے گی تو حدیث و سنت بھی ممد و معاون بنیں گی۔
پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم شریعت
قرآن مجید کی رو سے زندگی کے نقشے میں رنگ بھرنے کا کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محض بطور احسان کے نہیں کیا ہے، بلکہ بطور فریضہ نبوت کے کیا ہے۔ یہ کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا جزو لاینفک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معلم کی طرح پوری دلسوزی اور بے مثل شفقت کے ساتھ لوگوں کو قرآن کی تعلیم دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معلم ہونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب رسالت ہی کا ایک پہلو ہے۔ اس وجہ سے اپنی اس حیثیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ لوگوں کو بتایا اور سکھایا اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض نبوت سے نہ تو خارج کیا جا سکتا اور نہ اس کا درجہ اصل کتاب کے مقابل میں گرایا جا سکتا ہے۔ اس لئے کہ آپ قرآن مجید کے صرف سنا دینے والے نہ تھے، جیسا کہ منکرین سنت کا گمان ہے، بلکہ اس کے معلم اور مبین بھی تھے، جیسا کہ قرآن کا بیان ہے:
[هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ](الجمعۃ: 62: 2) وہی خدا ہے جس نے اٹھایا امیوں میں ایک رسول انہی میں سے جو ان کو اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور بےشک یہ لوگ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔
جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احکامی آیات کے اجمالات کی وضاحت فرمائی اسی طرح حکمت کے دقیق اشارات قرآن میں ہیں ان کی بھی وضاحت فرمائی۔ یہی چیز ہے جس کی بابت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ألا إنِّي أوتيتُ الكتابَ ومثلَهُ معهُ‘‘ (الكفاية في علم الرواية، باب ما جاء في التسوية بين حكم كتاب اللّٰه و حكم سنة رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم في وجوب العمل و لزوم التكليف) دیکھو، مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے مثل اور بھی۔
اس تفصیل سے یہ معلوم ہوا کہ سنت مثل قرآن ہے۔ سنت اپنے ثبوت میں بھی ہم پایہ قرآن ہے۔ اس لئے کہ قرآن امت کے قولی تواتر سے ثابت ہے اور سنت عملی تواتر سے۔ ہم ان دونوں کو مقدم و مؤخر نہیں